Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک چیف جسٹس کا یہ ریمارک خالص قانونی اعتبار سے کس حد تک باموقع ہے، اس کے بارے میں کوئی قانون داں ہی قطعی رائے دے سکتا ہے۔ تاہم یہ یقینی ہے کہ وہ خالص علمی اعتبار سے صحیح نہیں۔ چیف جسٹس صاحب نے پیغمبر اسلام کا یہ قول اس دعویٰ کی تائید میں پیش کیا ہے کہ اسلام سماج کے ایک طبقہ (عورت) کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کی حمایت کرتا ہے۔ حالاں کہ مذکورہ قول اس کے برعکس ، عورت کے ساتھ منصفانہ سلوک کی تاکید کر رہا ہے۔ محترم چیف جسٹس کا ریمارک منو کے قول کے لیے تو ضرور درست ہے۔ مگر وہ پیغمبر اسلام کے قول پر بالکل صادق نہیں آتا۔ مذکورہ قول رسول میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ عورت کے ساتھ نرمی (خیر) کا سلوک کرو۔ پھر اس حدیث کے بارے میں کس طرح یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ اس میں عورتوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک یا کمتر درجہ کا برتاؤ کرنے کی تلقین کی گئی ہے (جیسا کہ منو کے حوالے میں پایا جاتا ہے)۔ جہاں تک عورت کے پسلی کی مانند ہونے کا تعلق ہے، وہ عورت کے ساتھ بہتر سلوک کی توجیہہ کے طور پر ہے، نہ کہ بہتر سلوک کی تردید کے طور پر۔ اس کے بارے میں اوپر یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ یہ محض ایک مثال ہے۔ عورت کی مخصوص نفسیات کی بنا پر اس کے معاملہ کو پسلی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے نرم سلوک کرو۔ اگر تم عورت کے ساتھ سخت سلوک کرو گے تو یہ عورت کی فطرت کے مطابق نہ ہوگا ، اس سے بگاڑ پیدا ہوگا ، نہ کہ اصلاح۔ خلاصہ سورہ نساء کی آیت (وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جس جنس سے آدم کو بنایا، اسی جنس سے اس نے آدم کے جوڑے (حوا) کو بھی بنایا تا کہ دونوں میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page