Urdu book · خاتونِ اسلام

خلاصہ

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

موافق رہے ۔ اگر ایسا ہوتا کہ دونوں دو الگ جنس ہوتے، مثلاً ایک آگ سے بنایا جاتا اور دوسرا مٹی سے ، تو دونوں کے درمیان باہمی توافق نہ ہوتا ۔ پھر نہ خاندانی زندگی میں سکون پایا جاتا اور نہ یہ ممکن ہوتا کہ دونوں مل کر مشترکہ جد و جہد سے تمدن کی تعمیر کریں۔ حدیث ” ضِلَع “ میں عورتوں کے بارے میں جو بات ارشاد ہوئی ہے اس کا مقصد تمثیل کی زبان میں یہ بتانا ہے کہ عورتوں کی مخصوص فطری ساخت کی بنا پر ضروری ہے کہ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار مختلف انداز سے یہ نصیحت فرمائی ہے اور خود اپنی پوری زندگی میں اس کا مکمل اہتمام کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں رات کی نمازوں میں شریک ہوتی تھیں ۔ بعض اوقات ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بچے بھی ہوتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر چہ نماز کی اقامت کا بہت خاص اہتمام فرماتے تھے، لیکن خواتین کے ساتھ آپ کی رعایت کا یہ حال تھا کہ نماز میں اگر کبھی چھوٹے بچے کے رونے کی آواز آ جاتی تو آپ نماز کو جلد ختم کر دیتے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ، أُرِيدُ أَنْ أُطُولَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ فَأَتَجَوَّزُ فِي صَلَاتِي كَرَاهِيَةَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ ( صحیح البخاری ، حدیث نمبر 707 )۔ یعنی ، میں مسجد میں نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہوں ، یہ چاہتا ہوں کہ اس کو لمبا کروں ، پھر میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو میں اپنی نماز کو مختصر کر دیتا ہوں ، اندیشہ کی بنا پر کہ میں اس کی ماں کو تکلیف دوں گا۔ حدیث رسول میں عورت کو پسلی ( ضِلَع ) سے تشبیہ دینا ایک سادہ سی بات ہے۔ اس معاملہ میں جو شبہات پیدا ہوئے اس کی وجہ یہ تھی کہ حدیث کو بائبل کے بیان سے جوڑ دیا گیا۔ حالاں کہ مذکورہ حدیث کا بائبل کے بیان سے کوئی تعلق نہیں۔ حدیث میں جو بات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page