Urdu book · خاتونِ اسلام

عورت کا درجہ

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

عورت کا درجہ عورت کا درجہ اسلام میں وہی ہے جو مرد کا درجہ ہے (بَعْضُکُم مِّنْ بَعْضٍ) آل عمران، 3: 195 - حیثیت اور حقوق اور آخرت کے انعامات میں دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ البتہ اسلام کے نزدیک مرد مرد ہے اور عورت عورت۔ زندگی کا نظام چلانے میں دونوں برابر کے شریک ہیں تاہم اسلام نے دونوں کے درمیان تقسیم کار کا اصول رکھا ہے، نہ کہ یکسانیت کار کا اصول۔ اسلام اس کو پسند نہیں کرتا کہ دونوں میں سے کوئی صنف اپنے کو کم سمجھے اور ایک دوسرے کی نقل کرنے کی کوشش کرے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: لَعَنَ الْمُتَشَبِّھِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَلَعَنَ الْمُتَشَبِّھَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2784)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مردوں پر لعنت کی ہے جو عورتوں کے مشابہ بنیں، اور ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے جو مردوں کے مشابہ بنیں انسانیت کو مرد اور عورت کی صنفی تقسیم کے ساتھ پیدا کرنا براہ راست خالق کی منصوبہ بندی ہے۔ اس تقسیم کو باقی رکھنے ہی میں انسانی زندگی کی ترقی ہے۔ جو مرد یا عورت اس تقسیم کو توڑنے کی کوشش کرے وہ گویا نظام فطرت کو توڑتا ہے۔ نظام فطرت کو توڑنا صرف تخریب ہے، وہ کسی درجہ میں بھی تعمیر کا کام نہیں۔ اسلام کے نزدیک مرد اور عورت ایک دوسرے کا مثنی (duplicates) نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک دوسرے کا تکملہ (complements) ہیں۔ یعنی ایسا نہیں کہ جو مرد ہے وہی عورت ہے اور جو عورت ہے وہی مرد ہے۔ بلکہ دونوں میں ناقابلِ عبور قسم کے حیاتیاتی فرق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page