خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 219
By Maulana Wahiduddin Khan
پائے جاتے ہیں۔ یہ فرق تقسیم کار کی حکمت پر مبنی ہیں۔ وہ اس اعتبار سے ہیں کہ مرد کی کمی کی تلافی عورت کرے اور عورت کے اندر جو کمی ہے وہ مرد کے ذریعہ پوری ہو ۔ مرد اور عورت کے بارے میں اسلام کا تصور دونوں صنفوں کی فطری ساخت میں ثابت شدہ فرق پر مبنی ہے۔ یہ ایک حیاتیاتی حقیقت ہے کہ مرد اور عورت کی ساخت میں فرق ہے۔ مرد اپنی پیدائشی ساخت کے اعتبار سے ”باہر“ کے کام کے لیے موزوں ہے۔ اور عورت اپنی پیدائشی ساخت کے اعتبار سے ”اندر “ کے کام کے لیے موزوں ہے۔ اسی فرق اور تقسیم پر اسلام کے تمام قوانین بنائے گئے ہیں۔ مرد اور عورت کے معاشرتی مقام کے بارے میں اسلام کی تعلیمات تقسیم عمل کے اصول پر مبنی ہیں، نہ کہ اشتراک عمل کے اصول پر۔ عہدِ زندگی قرآن میں نکاح کے معاملہ کو میثاق غلیظ (4:21) کہا گیا ہے، یعنی مضبوط عہد (firm contract)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نکاح کی صورت میں مرد اور عورت کے درمیان جو رشتہ قائم ہوتا ہے اس کی حیثیت اسلام میں کیا ہے۔ یہ حقوق اور ذمہ داریوں کا ایک دو طرفہ معاہدہ ہے اس کے ذریعہ سے ایک مرد اور عورت اپنے آپ کو ساری عمر کے لیے ایک بے حد سنجیدہ رشتہ میں جوڑتے ہیں تا کہ دونوں ایک دوسرے کے رفیق بنیں۔ دونوں مل کر زندگی کے سفر کو طے کریں۔ معاہدہ ہمیشہ دو طرفہ بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔ اسی طرح نکاح کا معاہدہ بھی دو طرفہ بنیادوں پر قائم ہے۔ امام ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ، تمہاری عورتوں کے اوپر تمہارا حق ہے اور تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کا حق ہے: أَلَا إِنَّ لَكُمْ عَلَى نِسَائِكُمْ حَقًّا، وَلِنِسَائِكُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا۔ (سنن الترمذی ، حدیث نمبر 1163)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader