خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
بعض انتہا پسند قبیلوں میں اس طرح کی مثالیں ملنے لگیں کہ ایک شخص کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی تو اس نے بچپن ہی میں اس کو مار کر زمین میں گاڑ دیا۔ انسان کا عام مزاج یہ ہے کہ اگر وہ کسی کو بڑا سمجھ لے تو اس کے بارے میں وہ فضیلت اور تقدس کی جھوٹی کہانیاں گھڑنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی چیز اس کے ذہن میں نیچے درجہ کی قرار پا جائے تو اس کے بارے میں وہ اپنے ذہن کو ایسے انسانوں کی صورت میں ظاہر کرتا ہے جس میں وہ چیز واقعاتی طور پر ذلیل اور حقیر دکھائی دینے لگے۔ یہی معاملہ عورت کے ساتھ پیش آیا۔ قدیم زمانے میں اکثر قوموں میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور ہوئیں۔ یہ کہانیاں سراسر جھوٹی تھیں مگر قدیم ماحول میں ان کو اتنا زیادہ رواج حاصل ہوا کہ لوگ ان کو حقیقت سمجھ کر ان پر یقین کرنے لگے۔ عورت کے بارے میں تحقیری کہانیاں ہر ملک اور ہر قوم میں پھیلیں۔ ان میں سے دو مشہور کہانیوں کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔ ان جھوٹے افسانوں میں سے ایک وہ ہے جو قدیم یونانیوں اور ان کے اثر سے یورپ کی دوسری قوموں میں بہت مشہور ہوا۔ یہ افسانہ "پہلی عورت" کے بارے میں تھا۔ یعنی وہ ابتدائی عورت جو پہلی بار زمین پر آئی۔ اس پہلی عورت کے بارے میں طرح طرح کے افسانے گھڑے گئے جوز بان اور لٹریچر میں اس طرح پھیلے کہ لوگ ان کو حقیقت سمجھنے لگے۔ اس پہلی عورت کا نام پانڈورا (Pandora) تھا۔ پانڈورا ایک یونانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں ۔ سب کچھ دینے والا، مگر استعمال کے اعتبار سے یہ لفظ ایک برا مفہوم رکھتا تھا۔ یعنی ہر قسم کی خرابیاں دینے والا، مفروضہ کہانی کے مطابق ایک دیوتا پرومی تھیس (Prometheus) نے آسمان سے آگ چرانی اور اس کو زمین میں بسنے والے انسانوں تک پہونچا دیا۔ دیوتاؤں کے بادشاہ زیوس (Zeus) کو یہ بات ناپسند ہوئی۔ اس نے زمینی مخلوقات سے اس نعمت کو کالعدم کرنے کے لیے یہ تدبیر کی کہ اس نے ایک عورت بنائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader