خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے یہاں چند آیتیں اور حدیثیں نقل کی جاتی ہیں۔ ہر حال میں خیر ہے وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا (سورہ النساء، 19: 4)۔ یعنی، اور تم عورتوں کے ساتھ اچھی طرح گزران کرو۔ اگر وہ تم کو پسند نہ ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہواور اللہ نے اس کے اندر بہت زیادہ بھلائی رکھ دی ہو۔ اس آیت میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس دنیا میں کوئی چیز مکمل نہیں۔ ایک عورت اگر ایک اعتبار سے زیادہ ہے تو وہ دوسرے اعتبار سے کم ہوگی۔ اور اگر وہ کسی اعتبار سے کم ہے تو وہ کسی اور اعتبار سے زیادہ ہوگی۔ اس لیے کسی عورت کی صرف کمی کو دیکھ کر اس سے بیزار نہ ہوجاؤ، بلکہ اس کے روشن پہلو کو دیکھ کر اس کے ساتھ اچھی طرح نباہ کرو۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا اصل راز ہے۔ باہر کی دنیا میں بھی وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو گھر کی دنیا میں اس تجربہ سے سبق لے سکے۔ زندگی کی کامیابی” تاریکی “ میں ” روشنی “ دیکھنے کا نام ہے، اور یہ اہم سبق ہر آدمی کو اس کے گھر سے سکھایا جاتا ہے۔ عورت مرد سے زیادہ قابل احترام عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَحَقُّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِي؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: أُمُّكَ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ أَبُوكَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5971)۔ یعنی، حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کون ہے جو سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا مستحق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader