خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ آپ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ پھر کون۔ آپ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ پھر کون۔ آپ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ اس نے کہا کہ پھر کون۔ آپ نے فرمایا: تمہارا باپ۔ ماں کی صورت میں عورت کو سب سے زیادہ قابل احترام بنانا بتاتا ہے کہ اسلام کس قسم کا معاشرہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اسلام کے نزدیک سب سے زیادہ بہتر معاشرہ وہ ہے جس میں عورت کو سب سے زیادہ عزت اور احترام کا مقام حاصل ہو۔ جو شخص ”ماں“ کے روپ میں ایک خاتون کا سب سے زیادہ لحاظ کرے اس کے اندر لازمی طور پر یہ مزاج بنے گا کہ وہ دوسری خواتین کا بھی سب سے زیادہ لحاظ کرے۔ اس طرح پورے معاشرہ میں عورت کو وہ مقام مل جائے گا جو گھر کے اندر ایک ماں کو ملا ہوا ہے۔ اظہارِ خیال کی آزادی خلیفہ ثانی عمر فاروق منبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں سے کہا : عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّلَمِيِّ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا تُغَالُوا فِي مُهُورِ النِّسَاءِ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ يَا عُمَرُ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: وَإِنْ أَرَتُّمُ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا (4:20) ۔ وزاد فِي رِوَايَةٍ، فَقَالَ عُمَرُ : امْرَأَةٌ أَصَابَتْ وَرَجُلٌ أَخْطَأَ ( مسند الفاروق لابن کثیر، حدیث نمبر 810)۔ یعنی، تم لوگ عورتوں کے زیادہ مہر نہ باندھو۔ اس کے بعد ایک عورت اٹھی اور اس نے بلند آواز سے کہا کہ اے عمر! اس معاملہ میں آپ کو دخل دینے کا حق نہیں۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر تم نے عورتوں کو زیادہ مال دیا ہو تو اس میں سے کچھ نہ لو (4:20)۔ یہ سن کر حضرت عمر نے اپنی بات واپس لے لی اور کہا: عورت نے صحیح بات کہی اور عمر نے غلطی کی۔ حضرت عمر فاروق اپنے وقت کے حکراں تھے۔ ان کو ایک عام عورت نے بر سرِ عام ٹوک دیا۔ اور حکراں کو اپنی بات واپس لینی پڑی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اسلامی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader