خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
معاشرہ میں عورت کو کس قدر زیادہ حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ بلاشبہ یہ حقوق کا آخری درجہ ہے کہ کسی کو اظہارِ رائے کا مطلق اختیار حاصل ہو اور اسلامی معاشرہ میں ایک عورت کو یہ بات پوری طرح حاصل ہوتی ہے۔ گھر سنبھالنا کم تر درجہ کا کام نہیں عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِیدَ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ: إِنَّكُمْ مَعَاشِرَ الرِّجَالِ فُضِّلْتُمْ عَلَيْنَا بِالْجُمُعَ، وَالْجَمَاعَاتِ، وَأَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عز وجل، فَمَا تُشَارِكُكُمْ فِي الْأَجْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: انْصَرِفْي أَيَّتُهَا المَرْأَةُ، وَأَعْلِمِي مَنْ خَلْفَكِ مِنَ النِّسَاءِ، أَنَّ حُسْنَ تَبَعُّلِ إِحْدَاكُنَّ لِزَوْجِهَا وَطَلَبَهَا مَرْضَاتَهُ، وَاتِّبَاعَهَا مُوَافَقَتَهُ تَعْدِلُ ذَلِكَ كُلَّهُ (معرفة الصحابة لابي نعیم الاصفهانی، حدیث نمبر 7512)۔ یعنی، حضرت اسماء بنت یزید رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مرد اجر میں آگے بڑھ گئے، وہ جمعہ اور اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کا موقع ہے۔ ہم عورتیں کیسے ان کے برابر اجر پائیں۔ آپ نے فرمایا کہ اے خاتون، تم جا کر تمام عورتوں کو خبر دے دو کہ جو عورت اپنے شوہر کے ساتھ بہتر طریقہ سے رہے اور اس کی پسندیدگی کا خیال رکھے، اور ان سے اختلاف نہ کرے تو یہ ان تمام اعمال کے برابر ہے جن کا تم نے مردوں کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ موجودہ زمانہ کا یہ ذہنی بگاڑ ہے کہ گھر سنبھالنے کو کم تر درجہ کا کام سمجھا جاتا ہے اور باہر کے کام کو زیادہ بڑا کام سمجھ لیا گیا ہے۔ مگر اسلام گھر سنبھالنے کے کام کو بھی اتنی ہی عزت کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader