خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 223
By Maulana Wahiduddin Khan
درجہ دیتا ہے جتنا باہر کے کام کو۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں یکساں اہمیت کے کام ہیں۔ ان میں سے کسی فریق کو یہ حق نہیں کہ وہ احساسِ برتری میں مبتلا ہو اور نہ کسی فریق کو یہ چاہیے کہ وہ احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنی اہمیت خود اپنی نظر میں گھٹالے۔ معاشرہ کی تعمیر میں عورت کی اہمیت عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ، فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً، أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا. قَالَ: ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ. قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ: نِعْمَ أَنْتَ قَالَ الأَعْمَشُ: أُرَاهُ قَالَ: فَيَلْتَزِمُهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2813)۔ یعنی حضرت جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ ابلیس کا تخت سمندر کے اوپر ہے۔ وہ اپنے دستے بھیجتا ہے تو وہ انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ابلیس کے نزدیک وہ شیطان سب سے بڑا اقرار پاتا ہے، جس نے سب سے بڑا فتنہ پیدا کیا شیطانوں میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے ایسا اور ایسا کیا۔ شیطانوں کا سردار ابلیس اس سے کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ان میں کا ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ایک مرد اور ایک عورت کے پیچھے لگا رہا یہاں تک کہ میں نے دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی۔ ابلیس اس کو اپنے قریب کرتا ہے اور اس کو لپٹا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہاں تم نے کیا۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ انسانی معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرنے کے لیے شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار کیا ہے۔ وہ ہتھیار یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت کے درمیان جھگڑے کھڑے کرے اور دونوں کو ایک دوسرے سے دور کردے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader