خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ میں یہ فتنہ بہت محدود پیمانہ پر پیدا ہوتا تھا۔ یعنی ایک میاں بیوی یا ایک گھر اس فتنہ کا شکار ہوتا تھا۔ مگر موجودہ زمانے میں نئے نئے نظریات نے پوری نسل اور پوری انسانیت کو اس فتنہ کا شکار بنا دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں عورتوں کی مصنوعی آزادی اور غیر فطری مساوات کا ذہن اتنے بڑے پیمانہ پر بنایا گیا ہے کہ قومیں کی قومیں اس سے متاثر ہو کر رہ گئی ہیں۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں شادی شدہ زندگی کو برا سمجھا جاتا ہے۔ جدید ترقی یافتہ سماج میں مردوں اور عورتوں کا یہ حال ہے کہ وہ معمولی معمولی بات پر طلاق لے لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے گھر اجڑتے ہیں۔ بچے اپنے ماں باپ سے چھوٹ کر مجرمیں کے گروہ میں شامل ہوجاتے ہیں۔ جنسی بے قیدی کی بنا پر طرح طرح کی مہلک بیماریاں پیدا ہورہی ہیں۔ خاندانی بندھن کا پابند نہ ہونے کا مزاج موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہوا ہے اور وہ بلاشبہ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ گھر بگڑنے سے پورا معاشرہ بگڑتا ہے اور معاشرہ بگڑنے سے پوری قوم بگڑ جاتی ہے۔ یہ موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانہ پر ہورہا ہے۔ اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ازدواجی زندگی کا احترام ختم ہو گیا۔ خاندانی بندھن کے ساتھ زندگی گزارنے کو کمتر درجہ کی چیز سمجھا جانے لگا۔ عورت کی حاکمیت 1964 میں ہالی وڈ (امریکہ) نے ایک فلم بنائی تھی جس کا نام تھا: "Kisses for My President" اس فلم میں دکھایا گیا تھا کہ ایک شادی شدہ امریکی خاتون امریکا کی صدر منتخب ہوگئی ہے۔ مگر اس کے جلد ہی بعد وہ حاملہ ہو جاتی ہے۔ حاملہ ہونے کے مسائل سے وہ اتنا پریشان ہوتی ہے کہ وہ صدارتی آفس چھوڑ کر گھر چلی جاتی ہے، اور بالآخر صدارت کے عہدہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader