Urdu book · خاتونِ اسلام

عورت کی حاکمیت

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

سے استفادہ دے دیتی ہے۔ جدید مغربی دنیا میں ابھی تک اس کو ایک غیر سنجیدہ چیز سمجھا جاتا ہے کہ کسی عورت کو اعلیٰ حکومتی عہدہ دیا جائے۔ 1972 کے ایک پول میں امریکا کے ووٹروں کی اکثریت نے کہا تھا کہ خاتون صدر کے مقابلہ میں انھیں ایک سیاہ فام مرد صدر زیادہ قابل قبول ہے۔ ایک شخص نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ خاتون صدر جب اسپتال میں اپنا بچہ جنے گی تو اسپتال کے بلیٹن میں اعلان کیا جائے گا کہ صدر اور نومولود بچہ دونوں بخیر یت ہیں: “The President and baby are doing well.” (p.34) اصولی معیار کے اعتبار سے، ووٹر یہ چاہیں گے کہ عورت امیدوار میں بھی وہی خصوصیات ہوں جو مرد امیدوار میں ہوتی ہیں۔ استعداد، حوصلہ، تجربہ، استحکام، ذہانت۔ مگر عورت امیدوار کے معاملہ میں ووٹر کی نفسیات نہایت نازک ہو جاتی ہے۔ انھیں ابھی تک یقین نہیں کہ عورت کے اندر بھی اس قسم کی مردانہ صفات ہو سکتی ہیں۔ متعدد سائنس داں خالص سائنسی بنیاد پر عورت کو اعلیٰ حکومتی عہدہ دینے کے خلاف ہیں۔ مثلاً سرجن ایڈگر برمن آزادی نسواں کی حامی خواتین کی نظر میں اس وقت معتوب ہوگئے جب کہ انھوں نے یہ کہا کہ اپنی ہارمون کیمسٹری کی وجہ سے عورتیں زیادہ جذباتی ہوسکتی ہیں اور اس بنا پر وہ اقتدار کے منصب کے لیے غیر موزوں ہو سکتی ہیں: Surgeon Edgar Berman earned a low place in the bestiary of Women's Liberation two years ago when he suggested that because of their hormonal chemistry women might be too emotional for positions of power. (Time, March 20, 1972, p. 34) 1987 میں امریکہ میں خاص اس مسئلہ پر لوگوں کی رائے معلوم کی گئی۔ معلوم ہوا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page