عورت کی حاکمیت
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکی ووٹروں کی تقریباً ایک تہائی تعداد خیال کرتی ہے کہ امریکا کا صدر بننے کے لیے عورت کے مقابلے میں مرد زیادہ موزوں ہیں۔ یہ بات ایک عوامی رائے شماری کے ذریعہ معلوم ہوئی ہے، جس کا اہتمام حقوق نسواں کی ایک تنظیم کی فرمائش پر کیا گیا تھا۔ مطالعہ کا یہ نتیجہ جو ایک انجمن خواتین کی طرف سے شائع کیا گیا ہے، بتایا ہے کہ رائے دینے والوں میں صرف آٹھ فی صد تعداد ایسی تھی، جس کا خیال تھا کہ وائٹ ہاؤس کے عہدہ کے لیے عورت زیادہ بہتر ہوسکتی ہے۔ 49 فی صد نے کہا کہ دونوں جنسوں میں کوئی پیدائشی فرق نہیں ہے۔ اور 31 فیصد نے یہ خیال ظاہر کیا کہ مرد صدر بننے کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ اس رائے شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورتیں بعض دوسرے سماجی معاملات کے لیے زیادہ لائق ہوسکتی ہیں۔ مثلاً افلاس، صحت، تعلیم، منشیات اور شہری حقوق : NAY TO WOMEN: Nearly one third of American voters believed men to be better suited than women to be president of the U.S., according to a poll conducted for a women's rights group, Reuter reports from Washington. The study released by the National Women's Political Caucus (NWPC) said only eight percent of those polled believed a woman could do better than a man in the White House. 40 percent said there was no inherent difference between the sexes, and 31 percent believed men made better presidents. The poll, conducted by the Washington-based Hickman-Maslin political research firm, showed that women were credited with being more capable of dealing with social issues, such as poverty, health care, education, drug abuse, and civil rights. (The Times of India, New Delhi, August 14, 1987) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایران کا بادشاہ کسریٰ مر گیا تو اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader