خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
درباریوں نے کسریٰ کی لڑکی کو ایران کا بادشاہ بنا دیا۔ یہ خبر آپ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے گی جو عورت کو اپنا حاکم بنائے (لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمْ اِمْرَأَةً) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4425۔ دور جدید کی مذکورہ تحقیق اسلام کے اصول کی تصدیق ہے۔ اسلام میں چودہ سو سال پہلے یہ کہا گیا تھا کہ عورت اقتدار اعلیٰ کے منصب کے لیے غیر موزوں ہے۔ یہ بات ماضی میں بظاہر ایک خبر تھی، آج وہ ایک مسلمہ علمی حقیقت ہے۔ پیغمبر نے جو بات الہامی طور پر کہی تھی، اس کو انسان کے لمبے مطالعے اور تجربے نے اب ایک ثابت شدہ واقعہ بنا دیا ہے۔ یہ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اسلام کے اصول فطری حقائق پر مبنی ہیں، نہ کہ محض مفروضات اور قیاسات پر۔ عورت کی گواہی اسلام کے قانون شہادت میں دو عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر مانی گئی ہے۔ قرآن میں قرض کے معاملہ کا قاعدہ بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپنے مردوں میں سے دومرد کو گواہ بنالو۔ اور اگر دو مرد گواہ نہ ملیں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بنائی جائیں، ایسے گواہوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو۔ تاکہ ان دونوں عورتوں میں سے ایک اگر بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلادے (2:282)۔ حالیہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ قرآن کا یہ قانون بالکل فطری ہے۔ کیونکہ وہ حیاتیاتی حقیقت کے عین مطابق ہے۔ ٹائمز آف انڈیا (18 جنوری 1985) میں یوپی آئی کے حوالہ سے ایک رپورٹ شائع ہوتی ہے۔ یہ رپورٹ اخبار کے صفحہ 9 پر ہے اور اس کے الفاظ حسب ذیل ہیں: MEMORISING ABILITY: “Men have a greater ability to

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader