خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
جس کا نام پانڈورا تھا۔ اس کے بعد اس نے اس پہلی عورت کو زمین پر بھیج دیا۔ زمین پر اس وقت ایم پی تھیس (Epimetheus) آباد تھا۔ اس نے پانڈورا کی ظاہری کشش سے متاثر ہو کر اس کو اپنی بیوی بنا لیا اور وہ اس کے ساتھ رہنے لگی۔ اس پہلی عورت کے ساتھ ایک باکس تھا جس کو فرضی طور پر پانڈورا کا باکس (pandora's box) کہا جاتا ہے۔ پانڈورا نے زمین پر قیام کرنے کے بعد ایک روز اپنا یہ باکس کھول دیا۔ اس باکس کے اندر ہر قسم کی برائیاں (Evils) بھری ہوئی تھیں۔ باکس کھلتے ہی تمام برائیاں زمین پر پھیل گئیں ۔ اس کے بعد پھر یہ زمین کبھی برائیوں سے خالی نہ ہو سکی۔ (ملاحظہ ہو، انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا، اور کولنس انسائیکلو پیڈیا، تحت لفظ ”Pandora“)۔ اسی قسم کا افسانہ کسی قدر مختلف شکل میں یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان مشہور ہوا۔ یہ افسانہ خاتون اول حضرت حوّا کے بارے میں تھا۔ اس افسانہ کی اصل خود بائبل کے اندر شامل کر دی گئی ۔ چنانچہ موجودہ بائبل میں یہ الفاظ ملتے ہیں: ”اور خداوند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان (آدم) کو بنایا۔ اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے۔ لیکن نیک وبد کی پہچان کے درخت کے پھل کو کبھی نہ کھانا۔ کیوں کہ جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا۔ اور خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سو گیا۔ اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک کو نکال لیا۔ اور خداوند خدا اس پسلی سے ایک عورت بنا کر اسے آدم کے پاس لایا۔ اور سانپ کل دشتی جانوروں سے چالاک تھا اور اس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ اس درخت کا پھل تم نہ کھانا۔ سانپ نے عورت سے کہا کہ درخت کا پھل کھانے سے تم ہرگز نہ مرو گے۔ عورت نے اس کے بعد اس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر (آدم) کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader