اضافی خصوصیت نہ کہ فضیلت
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک کو ایک پر فضلیت دی۔ یہاں فضلیت سے مراد خصوصیت ہے۔ گھر کے نظام کو درست طور پر چلانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ایک سربراہ اور نگران ہو۔ یہ سربراہی یا نگرانی اسی فرد خاندان کو سونپی جائے گی جو نسبتاً اس کی زیادہ اہلیت رکھتا ہو، یہ اہلیت قدرتی تخلیق کے اعتبار سے مرد کے اندر رز زیادہ ہے۔ اس آیت میں کلی فضلیت کا ذکر نہیں ہے۔ یہاں صرف اس فضلیت کا ذکر ہے جو مرد کے لیے یہ استحقاق ثابت کرتی ہے کہ اس کو گھر کا قوام بنایا جائے۔ ”فَضَّلَ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ “ عربی کا ایک اسلوب ہے جو قرآن میں مختلف مقامات پر استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک ہی زمین اور ایک ہی پانی سے مختلف قسم کی فصلیں اور میوے پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : وَفِي الْأَرْضِ قِطَعٌ مُتَجَاوِرَاتٌ وَجَنَّاتٌ مِنْ أَعْنَابٍ وَزَرْعٍ وَنَخِيلٌ صِنْوَانٌ وَغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقَى بِمَاءٍ وَاحِدٍ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْأُكُلِ (13:4)۔ یعنی، اور زمین میں پاس پاس مختلف قطعے ہیں اور انگوروں کے باغ ہیں اور کھیتی ہے اور کھجوریں ہیں۔ ان میں سے کچھ اہرے ہیں اور کچھ دہرے سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں اور ہم بڑھا دیتے ہیں ان میں ایک کو ایک سے میووں میں۔ تمام مفسرین نے یہاں ”تفضیل “ سے مراد فرق اور تنوع لیا ہے، نہ یہ کہ پھلوں میں سے کسی ایک پھل کو دوسرے تمام پھلوں کے اوپر مطلق برتری حاصل ہے۔ یعنی ہر پھل میں ایک منفرد خصوصیت ہے جو دوسرے میں نہیں، ہر پھل میں رنگ اور مزہ کے اعتبار سے ایک مزید پہلو ہے جو دوسرے پھل سے مختلف ہے۔ عورت اور مرد میں بھی اسی طرح فرق رکھا گیا ہے۔ ایک صنف کے اندر ایک اضافی خصوصیت ہے تو دوسری صنف کے اندر دوسری اضافی خصوصیت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader