خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
ہُمَّا اکْتَسَبْنَ (32:4) ۔ یعنی، ہر ایک کو کوئی ایسی خصوصیت دی گئی ہے جو دوسرے کو نہیں دی گئی ہے۔ اس لیے دوسرے کو جو کچھ ملا ہے اس پر رشک و حسد نہ کرو بلکہ تم کو جو کچھ ملا ہے اس کو استعمال کرکے اس کے ذریعہ سے تعمیر حیات میں اپنا حصہ ادا کرو۔ یہ صحیح ہے کہ جسمانی اعتبار سے عورت کے اندر بعض کمزوریاں ہیں۔ مگر جسمانی کمزوری کا مطلب غیر افضل ہونا نہیں۔ آنکھ ہمارے جسم کا نہایت کمزور حصہ ہے، اس کے مقابلہ میں ناخن زیادہ طاقتور ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ناخن افضل ہے اور آنکھ غیر افضل۔ جس طرح دو پھلوں میں دو علاحدہ علاحدہ صفت ہوتی ہے اور دونوں میں سے کوئی افضل یا غیر افضل نہیں ہوتا۔ یہی معاملہ عورت اور مرد کا بھی ہے۔ عورت اور مرد دونوں کے اندر کوئی مزید صفت ہے جو ایک کے اندر ہے اور دوسرے کے اندر نہیں ہے۔ ہر ایک کو کسی نہ کسی اعتبار سے فضیلت (اضافی خصوصیت) حاصل ہے۔ دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اضافی خصوصیت کے اعتبار سے زندگی کے نظام میں اپنا مقام متعین کریں۔ ہر صنف کو اللہ تعالیٰ نے کسی کار خاص کے لیے موزوں بنایا ہے اور اس کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسی کار خاص میں لگادے۔ نادانی کا کلمہ اخبارات میں ایک کیس شائع ہوا ہے۔ یہ نادرہ بیگم قریشی کا کیس ہے۔ وہ بلاسپور (مہاراشٹر) کی رہنے والی ہے۔ اس کے شوہر نے ایک لڑکی کی پیدائش کے بعد اس کو طلاق دے دیا۔ اب وہ عدالت کے ذریعہ اپنے سابقہ شوہر سے گزارہ وصول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader