نادانی کا کلمہ
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائمز آف انڈیا یکم مئی 1986 کی رپورٹ کے مطابق جب نادرہ بیگم قریشی سے پوچھا گیا کہ وہ کیوں اندور کی شاہ بانو کے راستہ پر چل رہی ہے اور فوجداری قانون کی دفعہ 125 کے تحت اپنے لیے گذارہ وصول کرنا چاہتی ہے (جب کہ یہ اسلام کے خلاف ہے) تو اس تیزی سے جواب دیا کہ اسلام نے میرے لیے کیا کیا ہے کہ میں اس کے اصولوں کی پابندی کروں ۔ نہ جج اور نہ وکیل اس میں کامیاب ہو سکے کہ وہ مسز قریشی کو اپنا مقدمہ واپس لینے پر راضی کر سکیں ۔ اس نے مسٹر قریشی کی اس پیش کش کو بھی رد کر دیا کہ وہ اس کو اور اس کی لڑکی کو دوبارہ واپس لینے پر تیار ہیں۔ اس نے پیش کش کو ٹھکراتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس کو پانچ سو روپیہ ماہوار گذارہ دلائے ۔ مسز شاہ بانو کے برعکس وہ ابھی جوان (30 سال) ہے اور اس نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے: “What has Islam done for me that I should follow its tenets? shoots back Mrs Nadira Begum Qureshi when asked why she is following in the footsteps of Mrs Shah Bano of Indore and seeking maintenance allowance under Section 125, Cr. P. C. Neither the judge nor lawyers could persuade Mrs Qureshi to withdraw her case. She rejected Mr Qureshi's offer to take her and her daughter back. The offer rejected, she called upon the court to get her Rs 500 a month as allowance. Unlike Mrs Shah Bano, she is young (30) and educated (Graduate). یہ ایک نادان عورت کا کلمہ ہے، نہ کہ واقف کار عورت کا کلمہ۔ مذکورہ خاتون اگر تاریخ سے واقف ہوتی تو وہ جانتی کہ عورت کو جو کچھ ملا ہے اسلام ہی کے ذریعہ ملا ہے۔ حتیٰ کہ ایک عورت کا کھڑے ہو کر یہ کہنا کہ ’اسلام نے میرے لیے کیا کیا‘ یہ بھی اسلام ہی کا عطیہ ہے۔ اسلام سے پہلے عورت کو یہ درجہ ہی حاصل نہ تھا کہ وہ برسرِ عام کھڑی ہو کر اس طرح آزادانہ کلام کر سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader