بہترین رفیقہ حیات
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
کرتے ہیں۔ مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اور سچ بولتے ہیں، ناداروں کی خبر گیری کرتے ہیں اور حق کے معاملے میں ہمیشہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ کو یہ خیال ہوا کہ اس بارے میں عیسائی حضرات سے دریافت کریں۔ کیوں کہ وہ لوگ آسمانی کتابوں کے حامل ہیں اور وحی نبوت کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں ۔ چنانچہ وہ ایک عیسائی راہب کے پاس گئیں جو مکہ سے قریب رہتے تھے۔ راہب نے انھیں دیکھ کر پوچھا کہ اے قریش کی معزز خاتون۔ آپ کس لیے آئی ہیں۔ حضرت خدیجہ نے کہا کہ میں اس لیے آئی ہوں کہ آپ مجھے جبریل کے بارے میں بتائیں کہ وہ کون ہیں۔ راہب نے کہا، سبحان اللہ۔ وہ خدا کا پاک فرشتہ ہے۔ وہ پیغمبروں کے پاس آتا ہے۔ وہ موسیٰ اور عیسیٰ کے پاس آیا تھا۔ حضرت خدیجہ اس کے بعد ایک اور عیسائی کے پاس گئیں جس کا نام عداس تھا۔ اس سے بھی انھوں نے یہی سوال کیا کہ " جبریل " کون ہیں۔ عداس نے کہا کہ جبریل خدا کے فرشتے ہیں۔ وہ موسیٰ کے پاس اس وقت تھے جب کہ اللہ نے فرعون کو غرق کیا۔ وہ عیسیٰ پر اترے اور ان کے ذریعہ اللہ نے عیسیٰ کی مدد فرمائی۔ حضرت خدیجہ اس کے بعد ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں ۔ وہ جاہلیت کے زمانہ میں عیسائی ہو گئے تھے۔ وہ ایک بڑے عالم تھے اور انھوں نے انجیل کا ترجمہ سریانی زبان سے عربی میں کیا تھا۔ ورقہ بن نوفل نے حالات سننے کے بعد کہا: اے خدیجہ، اگر تم نے سچ کہا ہے تو یہ وہی فرشتہ ہے جو عیسیٰ پر آیا تھا، اب وہ محمد کے پاس آیا ہے۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر دوبارہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں۔ ورقہ نے آپ کی زبان سے حالات سننے کے بعد کہا، آپ کو خوش خبری ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader