Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

وہی پیغمبر ہیں جن کی مسیح بن مریم نے بشارت دی تھی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، قوم آپ کو جھٹلائے گی اور آپ سے لڑے گی۔ اگر میں اس وقت زندہ رہا تو میں ضرور آپ کا ساتھ دوں گا۔ (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 386) کامل آزادی قدیم عرب میں ایک رواج تھا جس کو ظہار کہتے تھے۔ ایک شخص اپنی بیوی سے غصہ ہو کر کہہ دیتا کہ اَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي (تو میرے لیے میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے)۔ جو شخص ایسا کہہ دیتا اس کے متعلق سمجھا جاتا کہ اس کی بیوی اس پر حرام ہو گئی۔ مدینہ میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک مسلمان حضرت اوس بن صامت نے کسی بات پر اپنی بیوی خولہ بنت ثعلبہ کو ایسا ہی کہہ دیا۔ اب بظاہر خولہ اپنے شوہر کے لیے حرام ہو گئیں۔ ان کے کئی بچے تھے، ان کو سخت پریشانی ہوئی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور پورا قصہ بتا یا۔ اس وقت تک اس بارے میں قرآن میں کوئی حکم نہیں اترا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ تو اب ان کے لیے حرام ہو گئی۔ یہ سن کر حضرت خولہ فریاد اور شکوہ کرنے لگیں کہ گھر ویران ہو جائے گا۔ میری اولاد تباہ ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، میرے شوہر نے یہ الفاظ تو نہیں کہے کہ میں تم کو طلاق دیتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے موافق جواب نہیں ملا تو وہ اللہ کے آگے رونے گڑگڑانے لگیں کہ خدا یا مجھے اس مصیبت سے بچا۔ میں تجھی سے اس معاملہ کی فریاد کرتی ہوں۔ اس کے بعد سورہ مجادلہ اتری جس میں ظہار کے بارے میں اسلام کا حکم بتایا گیا ہے۔ یہ سورہ ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تجھ سے جھگڑتی تھی اور اللہ سے فریاد کر رہی تھی۔ اور اللہ تم دونوں کی باتیں سن رہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page