خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 239
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، بے شک وہ سننے اور دیکھنے والا ہے (58:1)۔ تفسیر عبد الرزاق: 3165 انھیں حضرت خولہ کا واقعہ ہے۔ بعد کے زمانہ میں جب کہ حضرت عمر فاروق اسلامی سلطنت کے خلیفہ تھے۔ ایک روز آپ کہیں جا رہے تھے کہ راستہ میں حضرت خولہ ملیں جو اس وقت کافی بوڑھی ہو چکی تھیں۔ حضرت عمر نے ان کو سلام کیا۔ انھوں نے سلام کا جواب دیا اور پھر کہا: ”اے عمر، ایک وقت تھا کہ میں نے تم کو عکاظ کے بازار میں دیکھا تھا۔ اس وقت تم عمیر کہے جاتے تھے، تم ہاتھ میں لکڑی لیے ہوئے بکریاں چراتے تھے۔ پھر وہ وقت آیا کہ تم عمر کہے جانے لگے۔ اور تم امیر المومنین کہے جاتے ہو۔ دیکھو، رعایا کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ اور یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کی پکڑ سے ڈرتا ہے اس کے لیے دور کا آدمی بھی قریبی رشتہ دار کی طرح ہوتا ہے۔ اور جو آدمی موت سے نہیں ڈرتا اس کے بارے میں ڈر ہے کہ وہ اسی چیز کو کھودے گا جس کو وہ پانا چاہتا ہے۔“ اس وقت ایک صاحب حضرت عمر کے ساتھ تھے جن کا نام جارود عبدی تھا، انھوں نے کہا کہ اے عورت: تو نے امیر المومنین کے ساتھ بہت زبان درازی کی۔ حضرت عمر نے کہا انھیں بولنے دو تم جانتے ہو کہ یہ کون ہیں ۔ یہ وہ ہیں جن کی بات سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی، عمر کو تو بدرجہ اولی ان کی بات سننا چاہیے۔ (تاریخ المدینہ لابن شبہ، جلد 2، صفحہ 394) تقسیم کار اسلام میں عورت اور مرد کے دائرہ عمل کو الگ الگ رکھا گیا ہے۔ عورت گھر کے لیے اور مرد باہر کے لیے۔ یہ تقسیم نہ صرف اس لیے صحیح ہے کہ حیاتیاتی اور عضو یاتی اعتبار سے دونوں صنفوں میں فرق ہے ۔ بلکہ اس میں بہت سے اجتماعی فائدے بھی ہیں۔ ان میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اس تقسیم کے ذریعہ دونوں کو ایسے قابل اعتماد ساتھی مل جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے لیے بہترین مشیر بن سکیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader