Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

بھی دیا اور اس نے کھایا۔ تب دونوں کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں۔ تب خداوند نے آدم کو پکارا اور اس سے کہا کہ تو کہاں ہے۔ آدم نے کہا کہ جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیا ہے اس نے مجھے اس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا۔ تب خداوند خدا نے عورت سے کہا کہ تو نے یہ کیا کیا۔ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھ کو بہکایا تو میں نے کھایا۔ اور آدم سے اس نے کہا چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور اس درخت کا پھل کھایا۔ جس کی بابت میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھانا۔ اس لیے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی۔ مشقت کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس کی پیداوار کھائے گا اور وہ تیرے لیے کانٹے اور اونٹ کٹارے اگائے گی۔ (پیدائش ، باب 2-3) یہ قصہ بتاتا ہے کہ انسان اوّل (آدم) آرام کے ساتھ جنت میں تھے۔ وہاں سے ان کے نکلنے کا سبب جو چیز بنی وہ خاتون اوّل (حوا) تھیں ۔ حوا کو سانپ (شیطان) نے بہکایا اور حوا نے آدم کو بہکایا۔ اس طرح انسان اس ابتدائی گناہ (original sin) کا مرتکب ہو جس میں ساری نسل انسانی شریک ہوگئی۔ یہ افسانہ یقینی طور پر بے بنیاد ہے۔ مگر وہ اتنا مشہور ہوا کہ نہ صرف یہودیوں اور عیسائیوں میں بلکہ دنیا کی اکثر قوموں میں کسی نہ کسی طرح پھیل گیا۔ وہ زبان اور لٹریچر میں شامل ہو کر ہر طبقے کے لوگوں تک پہنچ گیا۔ قرآن نے جس طرح بائبل کی دوسری بہت سی تحریفات کی تصحیح کی ہے، اسی طرح اس نے بائبل کے اس تحریفی بیان کی بھی تردید کی ہے۔ اس سلسلے میں حسب ذیل آیات کا مطالعہ کیجیے : فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ. وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page