Urdu book · خاتونِ اسلام

تقسیم کار

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

خاندان، نسل انسانی کا اکائی ہے اور معاشرہ اس کا مجموعہ۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ زندگی کے ان دونوں میدانوں میں بارہا ایسے گھمبیر مسائل آتے ہیں جن میں وہ شخص بے لاگ رائے قائم نہیں کر پاتا جو خود مسئلہ کے اندر گھرا ہوا ہو۔ ایسے وقت میں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس ایک ایسا مشیر ہو جو خود مسئلہ سے متعلق نہ ہوتا کہ اس کی بابت غیر متاثر ذہن کے ساتھ رائے قائم کر سکے۔ عورت اور مرد کے درمیان تقسیم عمل سے یہ فائدہ بہترین طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔ عورت اپنے شعبہ میں مصروف ہوتی ہے اور مرد اپنے شعبہ میں۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کے معاملات سے براہ راست طور پر غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ ہر فریق اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کے معاملہ میں غیر متاثر ذہن کے ساتھ سوچے اور اپنے بے لاگ مشوروں سے اس کی مدد کر سکے۔ اس بات کی وضاحت کے لیے یہاں عورت کی زندگی سے چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ 1۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جب غار حرا میں پہلی وحی اتری تو آپ کا پینتے ہوئے اپنے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اوڑھا دو۔ گھر والوں نے آپ کو کمبل اڑھا دیا۔ کچھ دیر کے بعد جب آپ کی دہشت کم ہوئی تو آپ نے اپنی اہلیہ خدیجہ بنت خویلد سے وہ پورا قصہ بیان کیا جو غار حرا کی تنہائی میں آپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ آپ نے فرمایا، یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ خدیجہ کے اس وقت کے الفاظ جو تاریخ نے محفوظ رکھے ہیں وہ ایک رفیقۂ حیات کے کردار کی نہایت اعلیٰ مثال ہیں۔ انھوں نے کہا: کَلَّا وَاللّٰهِ لَا يُخْزِيْكَ اللَّهُ أَبَدًا، فَوَاللّٰهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَصْدُقُ الْحَدِيْثَ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُوْمَ، وَتُعِيْنُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ (سیرت ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 386)۔ یعنی، ہر گز نہیں، خدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page