تقسیم کار
Urdu book, p. 241
By Maulana Wahiduddin Khan
کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ ناداروں کے کام آتے ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملہ میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ 2۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریش مکہ سے وہ معاہدہ کیا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے، تو صحابہ میں سخت بے چینی پھیل گئی۔ کیونکہ یہ معاہدہ بظاہر دب کر کیا گیا تھا اور اس میں کئی باتیں صریح طور پر مخالفین کے حق میں تھیں۔ لوگوں میں اس قدر غم و غصہ تھا کہ معاہدہ کی تکمیل کے بعد جب آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور جو تم اپنے ساتھ لائے ہو، یہیں ذبح کر دو اور سر منڈالو۔ تو ایک شخص بھی اس کے لیے نہ اٹھا۔ آپ نے تین بار اپنے حکم کو دہرایا پھر بھی سب لوگ خاموش رہے اور کوئی اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔ آپ رنج کی حالت میں وہاں سے لوٹ کر اپنے خیمہ میں گئے جہاں آپ کی اہلیہ ام سلمہ موجود تھیں۔ انھوں نے آپ کو غمگین دیکھ کر پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ آج وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے مسلمانوں کو حکم دیا مگر ان میں سے کوئی بھی میرے حکم کی تعمیل کے لیے نہ اٹھا۔ ام سلمہ نے کہا: اے اللہ کے رسول، اگر آپ کی رائے یہی ہے تو آپ میدان میں تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنا قربانی کا جانور ذبح کریں اور سرمنڈالیں۔ آپ خیمہ سے باہر نکلے اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی ذبح کی اور نائی کو بلا کر سرمنڈایا۔ جب صحابہ نے یہ دیکھا تو سب نے اٹھ کر اپنی قربانیاں ذبح کردیں۔ اگرچہ ان کے رنج و غم کا عالم یہ تھا کہ جب وہ ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو کاٹ ڈالیں گے۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731) خدیجہ اور ام سلمہ کو ان نازک مواقع پر جو قیمتی بات سوجھی وہ اس لیے سوجھی کہ وہ اصل معاملہ سے الگ تھیں۔ اور اس بنا پر اس پوزیشن میں تھیں کہ غیر متاثر ذہن کے تحت اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader