Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 242

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بارے میں رائے قائم کر سکیں ۔ اگر وہ خود بھی معاملہ میں براہِ راست شریک ہو تیں تو اس قسم کی بے لاگ رائے قائم کرنا ان کے لیے ممکن نہ ہوتا۔ علم اور خاتون مشہور حدیث ہے کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ (سنن ابن ماجه، حديث نمبر 224)۔ یعنی علم کو حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ بظاہر اس حدیث میں صرف مسلم کا لفظ ہے، مسلمہ کا لفظ نہیں ہے۔ مگر علم کا حصول مسلم خواتین پر بھی فرض ہے ۔ محدثین نے صراحت کی ہے کہ اس حدیث میں ’’ مسلمہ ‘‘ کا لفظ بھی تتبعاتشامل ہے ۔ رجال اور طبقات کی کتابوں میں مردوں کی طرح عورتوں کی علمی خدمات کے تذکرے موجود ہیں ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دورِ اوّل میں خواتین کے درمیان علم کا کافی رواج تھا۔ امام بخاری ( وفات 870ء) نے چودہ سال کی عمر میں علم کے لیے سفر کیا تو وہ اس قابل ہو چکے تھے کہ بڑے بڑے اساتذہ سے استفادہ کر سکیں ۔ ان کے اندر یہ استعداد ان کی والدہ اور ان کی بہن نے پیدا کی تھی۔ امام ابن جوزی (وفات 1201ء) کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان کو ابتدائی تعلیم اپنی پھوپھی سے ملی ۔ مسلم مورخ اور طبیب ابن ابی اصبیعہ ( وفات 1270 ء) کی بہن اور بیٹی علم طب کی ماہر تھیں اور آج کل کی زبان میں ’’لیڈی ڈاکٹر‘‘ تھیں ۔ امام ابن عسا کر (وفات 1176ء) نے فن حدیث کی تعلیم جن اساتذہ سے حاصل کی ان میں ایک سے زیادہ خواتین کے نام بھی آتے ہیں۔ دورِ اول میں علمی سرگرمی سب سے زیادہ احادیث اور آثار کی روایت کا نام ہوتی تھی ۔ اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ کے ساتھ صحابیات اور مردوں کے ساتھ عورتوں نے بھی کثرت سے احادیث کو محفوظ کرنے اور بیان کرنے کا کام کیا ہے ۔ حضرت عائشہ نے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لیے ہوئے بہت سے علوم امت کو منتقل کیے ۔ اسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page