Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 243

By Maulana Wahiduddin Khan

طرح اس زمانہ میں بہت سی خواتین ہیں، جنھوں نے اپنے والدین اور اپنے رشتہ داروں سے روایات بیان کی ہیں، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا یا آپ کے اصحاب سے علم دین کی کوئی بات پائی تھی۔ ان خواتین نے اپنے رشتہ کے اہل علم سے اسلامی تعلیمات کو سیکھا اور ان کو دوسروں تک پہنچایا۔ اسلامی حوصلہ خنساء (وفات 24ھ) اسلامی دور کی شاعرہ ہے۔ اس خاتون کا اصل نام ثماضر بنت عمرو بن الشريد سُلميہ ہے۔ خنساء اس کا لقب تھا۔ بعد کو وہ اسی سے مشہور ہو گئی۔ وہ ایک بڑے خاندان میں پیدا ہوئی ۔ اس کا باپ مضر کے قبیلہ بنو سلیم کا سردار تھا۔ اس کے دو بھائی جاہلی جنگ میں مارے گئے۔ اس کا اسے بہت صدمہ ہوا۔ اپنے بھائیوں کے قتل سے پہلے وہ دو یا تین اشعار سے زیادہ نہ کہتی تھی ۔ مگر جب وہ مارے گئے تو اس کی آنکھوں سے آنسو اور دل سے اشعار امنڈنے لگے۔ اس نے دونوں بھائیوں خصوصاً صخر کے لیے انتہائی درد ناک مرثیے لکھے۔ وہ برابر مرثیہ کہتی رہی اور روتی رہی یہاں تک کہ اس کی دونوں آنکھیں جاتی رہیں۔ فتح مکہ کے بعد اپنے قبیلہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اسلام قبول کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو اس نے اپنے کچھ اشعار سنائے تو آپ بہت متاثر ہوئے اور فرمایا: "اور سناؤ خُناس (هِيهَ يا خُنَّاس )"۔ چنانچہ اس نے مزید اشعار آپ کو سنائے۔ مگر جوانی کی عمر میں جو عورت اپنے بھائی کی موت کو برداشت نہ کر سکی تھی، اسلام نے اس کے اندر وہ طاقت پیدا کی کہ بڑھاپے کی عمر میں اس نے خود اپنے لڑکوں کو خدا کی راہ میں شار کر دیا۔ اس کے چار جوان بیٹے تھے۔ چاروں کو اس نے جنگ قادسیہ میں جانے کے لیے آمادہ کیا۔ چنانچہ چاروں گئے اور چاروں لڑ کر شہید ہو گئے۔ جب اس کو خبر ملی کہ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page