خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
کے چاروں بیٹے ختم ہو گئے تو اس نے رونے یا مرثیہ کہنے کے بجائے نہایت صبر و سکون کے ساتھ اس خبر کو سنا اور پھر بولی: ”خدا کا شکر ہے جس نے مجھے ان کی شہادت سے عزت بخشی، میں امید کرتی ہوں کہ وہ مجھے ان سے ملا دے گا۔“(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 4، صفحہ 1829) جنت کے لیے صبر عمارؓ، یا سر اور سمیہ کے لڑ کے تھے جن کو مکہ میں اسلام دشمنوں نے سخت ترین تکلیفیں پہنچا ئیں یہاں تک کہ دونوں شہید ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ مکہ کے ابتدائی دور میں ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم آل یا سر کی طرف سے ایسے وقت میں گزرے جب کہ ان پر تشدد کیا جا رہا تھا۔ یا سر کے منہ سے صرف اتنا نکلا : يَا رَسُوْلَ اللهِ، اَلْدَّهْرُ هُكَذَا (مسند احمد، حدیث نمبر 439)۔ یعنی، اے خدا کے رسول، زمانہ یہی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آل یا سر صبر کرو، تم سے جنت کا وعدہ ہو چکا ہے“(المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 1508)۔ یا سر اور ان کی بیوی سمیہ اسلام میں سب سے پہلے مرتبہ شہادت پر فائز ہوئے ( الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، جلد 4، صفحہ 1864)۔ ماں باپ کا روح فرسا انجام دیکھنے کے باوجود عمار کے عزم میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ مزید یقین کے ساتھ اسلام پر جم گئے۔ راویان آثار و سیر کا بیان ہے کہ عمار بن یا سر پہلے کی مسلمان ہیں جنھوں نے اپنے گھر میں مسجد بنائی ( مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 5762)۔ اسباب نزول کی روایات کے مطابق ذیل کی آیت انھیں کے بارے میں اتری تھی: أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader