Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 245

By Maulana Wahiduddin Khan

قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ (39: 9)۔ یعنی، بھلا کوئی شخص رات کی گھڑیوں میں سجدہ اور قیام کی حالت میں عاجزی کر رہا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہو (وہ اور غافل لوگ یکساں ہیں)۔ کہو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔ نصیحت تو وہی لوگ پکڑتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 3، صفحہ 231) میدان عمل میں اسماء بنت ابوبکر ہجرت سے 27 سال پہلے پیدا ہوئیں۔ مکہ میں جب انھوں نے اسلام قبول کیا تو مسلمانوں کی تعداد سترہ تھی۔ حضرت ابوبکر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت کی توان کے پاس تقریباً چھ ہزار درہم تھے، وہ سب ساتھ لے گئے تھے۔ حضرت ابوبکر کے والد ابو قحافہ جونا بینا ہو گئے تھے۔ بعد کو پوتیوں کے پاس تسلی کے لیے آئے اور کہنے لگے: میرا خیال ہے کہ ابوبکر نے اپنے جانے کا صدمہ بھی تم کو پہنچایا اور مال بھی شاید سب لے گیا۔ اسماء کہتی ہیں کہ میں نے اپنے دادا سے کہا، وہ تو ہمارے لیے بہت کچھ چھوڑ گئے ہیں۔ یہ کہہ کر میں نے چھوٹے چھوٹے پتھر جمع کیے۔ اور اس طاق میں بھر دیا جس میں میرے والد کے درہم پڑے رہتے تھے۔ اور ان کے اوپر ایک کپڑا ڈال کر دادا کا ہاتھ اس کپڑے پر رکھ دیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ درہم سے بھرے ہوئے ہیں۔ کہا خیر یہ ابوبکر نے اچھا کیا۔ اس سے تم لوگوں کے گزارہ کی صورت ہو جائے گی۔ اسماء کہتی ہیں کہ خدا کی قسم کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا۔ میں نے صرف دادا کی تسلی کے لیے یہ صورت اختیار کی تھی۔ (سیرت ابن ہشام جلد 1، صفحہ 489) حضرت اسماء کی شادی حضرت زبیر سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد جب دونوں ہجرت کر کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page