میدانِ عمل میں
Urdu book, p. 246
By Maulana Wahiduddin Khan
مدینہ پہنچے تو اس وقت جو حال ہوا وہ صحیح بخاری میں ان کی زبان سے اس طرح نقل ہوا ہے: ”جب میرا نکاح زبیر سے ہوا تو ان کے پاس نہ مال تھا نہ جائیداد۔ نہ کوئی خادم کام کرنے والا۔ نہ کوئی اور چیز۔ ایک اونٹ پانی لاد کر لانے کے لیے تھا اور ایک گھوڑا۔ میں ہی اونٹ کے لیے گھاس وغیرہ لاتی تھی اور کھجور کی گھٹلیاں کوٹ کر دانہ کے طور پر کھلاتی تھی۔ میں ہی پانی بھر کر لاتی اور پانی کا ڈول پھٹ جاتا تو اس کو آپ ہی سیتی تھی۔ مجھ ہی کو گھوڑے کی ساری خدمت کرنی ہوتی تھی۔ اس کے ساتھ گھر کا سارا کام بھی انجام دینا ہوتا۔ ان سب کاموں میں گھوڑے کی خبر گیری میرے لیے زیادہ مشقت کی چیز تھی۔ روٹی البتہ مجھ کو اچھی طرح پکانا نہیں آتی تھی۔ اس لیے جب روٹی پکانا ہوتا تو میں آٹا گوندھ کر اپنے پڑوس کی انصار عورتوں کے یہاں لے جاتی۔ وہ بڑی مخلص عورتیں تھیں۔ میری روٹی بھی پکا دیتیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچنے پر زبیر کو ایک زمین جاگیر کے طور پر دے دی جو مدینہ سے دو میل کے فاصلہ پر تھی۔ میں وہاں کام کے لیے جایا کرتی اور وہاں سے اپنے سر پر کھجور کی گھٹلیاں لاد کر لاتی۔ ایک بار میں اس طرح آرہی تھی اور گٹھری میرے سر پر تھی۔ راستہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے۔ وہ اونٹ پر آرہے تھے اور انصار کی ایک جماعت ساتھ تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر اونٹ کو ٹھہرایا۔ اور اس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا تا کہ میں اس پر بیٹھ جاؤں۔ مجھے مردوں کے ساتھ جاتے ہوئے شرم آئی اور یہ بھی خیال آیا کہ زبیر کو غیرت بہت زیادہ ہے ان کو یہ ناگوار نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے انداز سے سمجھ گئے کہ مجھ کو اونٹ پر بیٹھتے ہوئے شرم آرہی ہے چنانچہ آپ آگے بڑھ گئے۔ میں گھر پر آئی اور زبیر کو پورا قصہ سنایا۔ میں نے کہا کہ مجھے مردوں کے ساتھ اونٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader