Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

پر بیٹھے ہوئے شرم آئی اور تمہاری غیرت کا بھی خیال آیا۔ زبیر نے کہا، خدا کی قسم، تمہارا انگھٹیاں سر پر رکھ کر لانا میرے لیے اس سے بھی زیادہ گراں ہے۔“ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4928) مدینہ کی زندگی میں عورتوں کے اس طرح کے کثرت سے واقعات ہیں۔ اس وقت عورتیں نہ صرف گھر کا بلکہ باہر کا بھی اکثر کام کرتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مرد زیادہ تر جہاد اور تبلیغ دین وغیرہ میں مشغول رہتے تھے۔ ان کو موقع نہیں ملتا تھا کہ گھر کی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ چنانچہ ان کی عورتوں نے گھر کے کاروبار کو سنبھال لیا تھا۔ حتیٰ کہ جانوروں کی دیکھ بھال اور زراعت اور باغبانی بھی وہ کرنے لگی تھیں۔ عورت کا مقام ”جو لوگ سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور ان کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ انھیں سخت عذاب کی خوشخبری دے دو۔“ (9:34) قرآن کی یہ آیت اتری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تَبَّاً لِلذَّهَبِ تَبَّاً لِلْفِضَّةِ (برا ہو سونے کا اور برا ہو چاندی کا)۔ یہ بات جب آپ کے اصحاب کو معلوم ہوئی تو وہ تشویش میں پڑ گئے۔ انھوں نے آپس میں کہا: فَأَيُّّ مَالٍ نَّتَّخِذُ (اب ہم کون سا مال جمع کریں؟) حضرت عمر اس وقت وہاں موجود تھے۔ انھوں نے کہا، اگر تم لوگ پسند کرو تو میں اس کی بابت رسول اللہ سے سوال کروں؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ وہ آپ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب کہہ رہے ہیں کہ کاش ہم جانتے کہ کون سا مال بہتر ہے تو ہم اسی کو جمع کرتے آپ نے فرمایا: يَتَّخِذُ أَحَدُكُمْ لِسَانًا ذَاكِرًا، وَقَلْبًا شَاكِرًا، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُ أَحَدُهُمْ عَلَى إِيمَانِهِ (مسند احمد، حدیث نمبر 22392)۔ وفي رواية: لَيَتَّخِذُ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا، وَلِسَانًا ذَاكِرًا، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً، تُعِينُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ۔ (سنن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page