Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

ابن ماجہ، حدیث نمبر 1856 ) تم میں سے ہر ایک یہ کرے کہ یاد کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اپنائے اور ایسی بیوی اختیار کرے جو اس کے ایمان پر اس کی مدد کرے ۔ ایک اور روایت میں ایمان کے بجائے آخرت کا لفظ ہے ۔ عورت ہر میدان میں 1۔ حضرت اُم سلمہ ایک بار کسی عورت سے اپنے بال گوندھوا رہی تھیں اتنے میں مسجد سے خطبہ کی آواز آئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اَيُّهَا النَّاسُ (اے لوگوں) یہ سنتے ہی فرمایا۔ بس جیسے ہیں ویسے ہی باندھ دو، عورت نے کہا اتنی جلدی کیا ہے، ابھی تو آپ نے اَيُّهَا النَّاسُ کہا ہے۔ انھوں نے کہا ”خوب، کیا ہمارا شمار آدمیوں میں نہیں ۔ “ یہ کہہ کر خود ہی بال باندھ کر کھڑی ہوگئیں اور قریب ہو کر خطبہ سننے لگیں (مسند ابن المبارک ، حدیث نمبر 249)۔ حضرت اُم سلمہ کی مرویات کی تعداد 378 ہے۔ وہ فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔ ابن قیم نے لکھا ہے کہ اگر ان کے فتوے جمع کیے جائیں تو ایک رسالہ تیار ہو جائے گا۔ (اعلام الموقعين ، جلد 1 ، صفحہ 20) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں حضرت عائشہ سب سے زیادہ ذہین تھیں۔ ان کی مرویات کی تعداد 2210 تک شمار کی گئی ہے۔ ان سے تقریباً ایک سو صحابہ اور تابعین نے روایت کیا ہے۔ عبد اللہ بن عباس، عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، عبد اللہ بن عامر، مسروق بن اجدع، عکرمہ، علقمہ جیسے لوگ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ حضرت عائشہ ایک اعلیٰ درجہ کی فقیہہ تھیں۔ جب کوئی حدیث بیان کرتیں تو اس کی علت و حکمت بھی بیان کر دیتیں۔ حضرت ابو سعید خدری اور حضرت عبد اللہ بن عمر سے جمعہ کے غسل کے بارے میں صرف اس قدر مروی ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا چاہیے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 894)؛

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page