Urdu book · خاتونِ اسلام

عورت ہر میدان میں

Urdu book, p. 249

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح مسلم، حدیث نمبر 846) ۔ مگر اسی حدیث کو حضرت عائشہ نے بیان کیا تو یہ بھی فرمایا کہ لوگ دور دور کی آبادیوں سے نماز جمعہ کے لیے مدینہ آتے تھے۔ وہ گرد و غبار سے اٹے ہوتے اور پسینہ سے تر ہوتے اس لیے آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نہا لیا کرو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 903؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 847) ۔ 2۔ بنی غفار کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں اپنے قبیلہ کی کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ خیبر کے جہاد کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا: اے خدا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ چلیں، تاکہ زخمیوں کی مرہم پٹی کریں، اور جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کی مدد کریں۔ آپ نے فرمایا— عَلَى بَرَکَةِ اللہِ: اللہ برکت دے، چلو (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 8، صفحه 292)۔ انصاری خاتون ام عطیہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزؤوں میں شرکت کی ہے۔ میں مجاہدین کے کجاوں کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہتی، ان کے لیے کھانا پکاتی، زخمیوں کا علاج کرتی، اور مصیبت زدوں کی نگرانی کرتی (مسند احمد، حدیث نمبر 20792) ۔ اسماء بنت یزید بن سکن حضرت معاذ بن جبل کے چچا کی بیٹی تھیں ان کی بابت حضرت مہاجر بتاتے ہیں کہ انھوں جنگ یرموک میں خیمہ کی لکڑی سے نورومیوں کو قتل کیا (الاصابہ لابن حجر العسقلانی، جلد 8، صفحه 22)۔ 3۔ مدینہ کے یہودیوں سے جنگ کے زمانے کا واقعہ ہے۔ عورتوں اور بچوں کو ایک قلعہ کی چھت پر جمع کر کے حسان بن ثابت کو ان کی دیکھ بھال کے لیے وہاں رکھا گیا تھا۔ صفیہ بنت عبدالمطلب بھی اسی قلعہ کی چھت پر تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ہمارے قریب سے ایک یہودی گزرا اور ہمارے قلعہ کا چکر لگانے لگا۔ اس وقت بنی قریظہ نے جنگ چھیڑ رکھی تھی۔ اس وجہ سے ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان راستہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page