خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
لَّكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ۔ فَدَلَّهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ۔ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔ (23-7:20) یعنی پھر شیطان نے دونوں کو بہکایا تاکہ وہ کھول دے ان کی وہ شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔ اس نے ان سے کہا کہ تمھارے رب نے تم کو اس درخت سے صرف اس لیے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتہ نہ بن جاؤ یا تم کو ہمیشہ کی زندگی حاصل ہوجائے۔ اور اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ پس مائل کر لیا ان کو فریب سے۔ پھر جب دونوں نے درخت کا پھل چکھا تو ان کی شرم گاہیں ان پر کھل گئیں۔ اور وہ اپنے کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ انھوں نے کہا، اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ ان آیات میں دیکھیے، ہر موقع پر تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ ہر بات میں آدم و حوا دونوں کو یکساں طور پر برابر کے درجے میں شریک کیا گیا ہے۔ اس سے بالکل واضح ہے کہ شیطان نے ایک ساتھ دونوں کو بہکایا۔ دونوں بیک وقت شیطان کی باتوں سے متاثر ہوئے اور دونوں نے ایک ساتھ ممنوعہ درخت کا پھل کھایا، دونوں یکساں طور پر اس کے انجام سے دوچار ہوئے۔ پھر اللہ نے دونوں کو برابر کے درجے میں ذمہ دار ٹھہرایا اور دونوں سے یکساں حیثیت میں خطاب کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader