Urdu book · خاتونِ اسلام

خدا کی مدد

Urdu book, p. 251

By Maulana Wahiduddin Khan

ابو جندل آگئے۔ وہ مسلمان ہوگئے تھے۔ مگر مکہ والوں نے ان کو قید کر رکھا تھا۔ مکہ سے حدیبیہ (موجودہ شمیسی) تک 13 میل کا فاصلہ طے کر کے وہ اس طرح آپ کے کیمپ میں پہنچے کہ اب بھی ان کے پیروں میں بیڑیاں تھیں اور جسم پر مار پیٹ کے نشانات تھے۔ انھوں نے آپ سے فریاد کی کہ مجھ کو اس قید سے نجات دلائی جائے۔ صحابہ کے لیے بھی اپنے مومن بھائی کی یہ حالت دیکھ کر ضبط کرنا مشکل ہو گیا۔ مگر سہیل بن عمرو نے کہا کہ معاہدہ کی تحریر چاہے مکمل نہ ہوئی ہو، شرائط تو ہمارے اور آپ کے درمیان طے ہو چکی ہیں۔ اس لیے ابو جندل کو ہمارے حوالے کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے ابو جندل کو ان کے حوالہ کر دیا۔ اور روتے ہوئے مکہ واپس گئے۔ اسی طرح ابو بصیر اور دوسرے مسلمان جو قریش کی قید سے بھاگ کر مدینہ آئے، ان کو حسب معاہدہ قریش کو واپس کیا جاتا رہا۔ مگر اس کے برعکس مسلمان عورتوں کے معاملہ میں اس اصول کی پابندی نہیں کی گئی۔ قرآن میں آیت اتری: ”اے ایمان والو، جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کی جانچ کرلو، پھر جب تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو ان کو کفار کی طرف واپس نہ کرو۔“ (60 : 10) اس سلسلے میں، مثال کے طور پر یہ واقعہ آتا ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی محیط مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچیں مکہ والوں کو معلوم ہوا تو انھوں نے معاہدہ کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ام کلثوم کے دو بھائی ولید بن عقبہ اور عمارہ بن عقبہ انھیں واپس لے جانے کے لیے مدینہ آئے۔ اس کے باوجود ان کو واپس نہیں کیا گیا (مغازی للواقدی، جلد 2، صفحہ 631)۔ بظاہر یہ معاہدہ کی خلاف ورزی تھی۔ اور قریش کے لیے زبردست موقع تھا کہ وہ آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page