خدا کی مدد
Urdu book, p. 252
By Maulana Wahiduddin Khan
کی بد عہدی کا شور مچا کر آپ کو بد نام کریں۔ مگر قریش آپ کے ساتھ انتہائی دشمنی کے باوجود بالکل خاموش ہو گئے انھوں نے اس کے خلاف احتجاج تک نہ کیا۔ ایسا کیوں کر ہوا۔ سیرت اور تفسیر کی عام کتابوں میں اس کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ قاضی ابوبکر ابن العربی نے لکھا ہے کہ قریش اس لیے خاموش ہو گئے کہ اللہ تعالی نے بطور معجزہ اس معاملہ میں ان کی زبان بند کردی تھی (احکام القرآن لابن العربی، جلد 4، صفحہ 229)۔ بلاشبہ یہ اللہ تعالی کی مدد تھی۔ مگر ان معنوں نہیں جن معنوں میں لفظ "معجزہ" عام طور پر بولا جاتا ہے۔ معاہدہ کے الفاظ پر غور کر کے اس کی حقیقت سمجھی جاسکتی ہے۔ دوسری اکثر روایات کی طرح معاہدہ حدیبیہ کی شرائط بھی اکثر راویوں نے اپنے اپنے الفاظ میں بیان کی ہیں۔ مثال کے طور پر زیر بحث شرط کے متعلق مختلف روایتوں کے الفاظ ملاحظہ ہوں: 1۔ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ لَمْ نَرُدُّهُ عَلَيْكُمْ، وَمَنْ جَاءَكُمْ مِنْ نَّارِ دَدْتُمُوهُ عَلَيْنَا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1784) 2۔ مَنْ أَتَى مُحَمَّدًا مِنْهُمْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ رَدَّهُ إِلَيْهِ (مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 611)۔ 3۔ مَنْ أَتَى مُحَمَّدًا مِنْ قُرَيْشٍ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهِ رَدَّهُ عَلَيْهِمْ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 317) 4۔ لَا يَأْتِيْنَكَ مِنَّا رَجُلٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دِيْنِكَ إِلَّا رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 32-2731)۔ آخری روایت بخاری (کتاب الشروط، باب الشُّرُوْطِ فِي الْجِهَادِ وَالْمُصَالَحَةِ) کی ہے اور باعتبار سند قوی ہونے کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ غالباً معاہدہ کی مذکورہ شرط کے اصل الفاظ یہی تھے۔ اگر یہ مان لیا جائے تو اس فقرہ میں رجل (مرد) کے لفظ نے مسلمانوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader