Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 253

By Maulana Wahiduddin Khan

کو موقع دیا کہ وہ مکہ سے آئی ہوئی مسلم خواتین کو اس دفعہ سے مستثنی قرار دے سکیں۔ معاہدہ کی یہ شرط مسلمانوں کی طرف سے نہ تھی بلکہ مکہ والوں کی طرف سے تھی۔ ان کی جانب سے سہیل بن عمرو نے معاہدہ میں دفعہ کے یہ الفاظ لکھوائے تھے۔ ہوسکتا ہے کہ دفعہ کے الفاظ لکھواتے وقت سہیل کے ذہن میں ”کوئی شخص“ کا مفہوم ہو جس میں عورت اور مرد دونوں شامل ہوتے ہیں مگر اپنے اس ذہنی مفہوم کو لفظ کی شکل دیتے ہوئے اس کی زبان سے جو لفظ نکلا وہ ”رجل“ تھا جو عربی زبان میں صرف مرد کے لیے بولا جاتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ کے مدینہ پہنچنے کے بعد جب آپ کے بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بہن کی واپسی کا مطالبہ کیا تو امام زہری کی روایت کے مطابق، آپ نے ان کو واپس دینے سے انکار کر دیا اور فرمایا: کَانَ الشَّرْطُ فِی الرِّجَالِ دُوْنَ النِّسَاءِ (شرط مردوں کے بارے میں تھی، نہ کہ عورتوں کے بارے میں) احکام القرآن لابن العربی، جلد 2، صفحہ 229؛ تفسیر رازی، جلد 29، صفحہ 522)۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تک خود قریش بھی غالباً اس غلط فہمی میں تھے کہ معاہدہ کی یہ دفعہ ہر طرح کے مہاجرین کے بارے میں ہے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت۔ مگر جب آپ نے توجہ دلائی کہ معاہدہ میں رجل (مرد) کا لفظ لکھا ہوا ہے تو انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک لفظ کے ذریعہ مسلم خواتین کو ذلت کی واپسی سے بچا لیا۔ گھر کے باہر حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ جب قرآن کی یہ آیت اتری: کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے تو وہ اس کو کئی گنا بڑھا کر واپس کرے (2:245)۔ اس آیت کو سن کر حضرت ابو الدحاح نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں اے ابوالدحاح ۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اپنا ہاتھ دکھا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page