خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
ے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ انھوں نے کہا کہ پھر میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ ابو الدحاح کا ایک باغ تھا جس میں چھ سو کھجور کے درخت تھے ۔ اس وقت ان کی بیوی ام الدحاح اپنے بچوں کے ساتھ اس باغ میں تھیں۔ روای کہتے ہیں کہ ابو الدحاح آۓ اور آواز دی کہ اے ام الدحاح ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔ ابو الدحاح نے کہا کہ اس باغ سے نکلو ۔ کیوں کہ میں نے اسے اپنے رب کو قرض میں دیدیا۔ ام الدحاح نے کہا کہ اے ابو الدحاح ، آپ کا سودا کامیاب رہا۔ اور اپنا سامان اور بچے لے کر وہاں سے چلی آئیں ( سنن سعید بن منصور ، حدیث نمبر 417 ؛ مسند احمد ، حدیث نمبر (12482) ۔ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابو الدحاح کی بیوی کھجوروں کے باغ میں کام کرتی تھیں ۔ اس طرح کے واقعات کثرت سے دور اول کی مسلم خواتین کے حالات کے تحت ملتے ہیں جن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے معیاری دور میں عورتیں گھر کے اندر بند ہو کر پڑی نہیں رہتی تھیں ۔ بلکہ وہ گھر کے باہر کے ضروری کام بھی انجام دیتی تھیں۔ تاہم خواتین کی یہ بیرونی سرگرمیاں برائے ضرورت تھیں ، نہ کہ برائے تفریح ۔ وہ ایک صالح خاندان کی تعمیر کے لیے ہوتی تھیں ، نہ کہ باہر کی دنیا میں مصنوعی مساوات کا مظاہرہ کرنے کے لیے۔ عورت کا مقام اسلام نے عورت کو جو با عزت مقام دیا ہے اس کی ایک علامتی مثال وہ ہے جو حضرت ہاجرہ کی شکل میں پائی جاتی ہے ۔ اسلام کی عبادتوں میں ایک عظیم ترین عبادت حج ہے۔ ہر صاحب استطاعت آدمی پر فرض ہے کہ وہ زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور مکہ جا کر حج کے مراسم ادا کرے ۔ حج کے دوران جو اعمال کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک خاص عمل وہ ہے جس کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا کہا جاتا ہے ۔ ہر آدمی خواہ عالم ہو یا جاہل ۔ امیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader