تجربہ کی زبان میں
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
تجربہ کی زبان میں اسلام میں عورت کی حیثیت کے بارے میں پچھلے صفحات میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ راقم الحروف کے لیے محض ایک نظری بات نہیں اور نہ وہ صرف ایک تاریخی بات ہے جس کو میں نے قدیم اوراق میں پڑھ لیا ہو۔ اسی کے ساتھ یہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تعلیمات کو میں نے نہ صرف قرآن وحدیث میں اور اسلام کی تاریخ میں پڑھا ہے بلکہ ان کو اپنی آنکھوں کے سامنے واقعہ بنتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ میرا یہ تجربہ قدرتی طور پر میرے اپنے گھر کی خواتین سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلامی حدود کی بنا پر ایک مسلمان اپنے گھر کی خواتین ہی سے پوری طرح باخبر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ میں اپنے گھر کے تجربہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام کی حدود میں رہ کر عورتیں وہ سب کچھ کر سکتی ہیں جن کی زندگی کی تعمیر کے لیے ضرورت ہے یا کبھی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ان تجربات کو میں زیادہ تفصیل کے ساتھ، ان شاء اللہ، اپنی سوانح عمری میں لکھوں گا۔ البتہ ایک تجربہ یہاں تحریر کرتا ہوں جو میری والدہ مرحومہ سے متعلق ہے۔ میری والدہ کا نام زیب النساء (بنت خدا بخش) تھا۔ وہ اعظم گڑھ کے ایک دیہات (سنجر پور) میں انیسویں صدی کے آخر میں پیدا ہوئیں۔ اور 18 اکتوبر 1985 کو دہلی میں انتقال فرمایا۔ بوقت انتقال ان کی عمر تقریباً ایک سو سال تھی۔ والدہ کی تعلیم بس اتنی ہی ہوئی تھی کہ وہ قرآن کی تلاوت کر سکتی تھیں اور معمولی اردو کی کتاب اٹک اٹک کر پڑھ لیتی تھیں۔ تاہم وہ پوری طرح ایک مذہبی خاتون تھیں۔ نماز روزہ کی سختی سے پابند تھیں۔ حج بھی نہایت ذوق وشوق سے کیا تھا۔ ان کو میں نے کبھی جھوٹ بولتے یا اور کوئی غیر اخلاقی فعل کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ساری عمر وہ مکمل طور پر پردہ دار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader