Urdu book · خاتونِ اسلام

تجربہ کی زبان میں

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

رہیں۔ وہ پورے معنوں میں ایک با اصول اور ایک با کردار خاتون تھیں۔ میرے والد فرید الدین خاں مرحوم کا انتقال 30 دسمبر 1929 کو ہوا۔ وہ اپنے علاقہ کے سب سے بڑے زمیندار تھے۔ ایک روز وہ حسب معمول قریب کے گاؤں (نوادہ) اپنی چھاؤنی پر گئے ہوئے تھے۔ وہاں ان پر فالج کا دورہ پڑا۔ بے ہوشی کی حالت میں چار پائی پر لٹا کر گھر لائے گئے۔ اس کے بعد وہ کچھ بول نہ سکے۔ بے ہوشی کی حالت ہی میں اگلے دن ان کا انتقال ہو گیا۔ والدہ اچانک بیوہ ہوگئیں۔ اس وقت ہم لوگ پانچ بھائی بہن تھے۔ بڑے بھائی عبدالعزیز خاں کی عمر تقریباً آٹھ سال تھی۔ میری عمر پانچ سال اور چھوٹے بھائی عبدالمحیط خاں کی عمر صرف ایک سال۔ اسی طرح دونوں بہنیں بھی چھوٹی عمر میں تھیں۔ بہنوں کا انتقال والدہ کی زندگی ہی میں ہو گیا۔ ہم تینوں بھائی خدا کے فضل سے تادم تحریر زندہ ہیں۔ اس وقت والد کا انتقال ہمارے لیے ایسا ہی تھا جیسے کوئی شخص ٹائر سے اچانک زمین پر گر پڑے۔ اس کی وجہ تمام تر مصنوعی تھی، نہ کہ حقیقی۔ مخصوص اسباب کے تحت جو دور زراعت میں اکثر مشترک خاندانوں میں پیش آتے رہے ہیں، والد کے انتقال کے بعد ہمارے گھر کا ماحول ہمارے لیے غیر موافق ہو گیا۔ بعض رشتہ داروں کے زیر اثر ایسا ہوا کہ گھر کے اکثر افراد کا سلوک ہمارے ساتھ وہ نہ رہا جو کہ ہونا چاہیے تھا۔ یہ صورت حال اتنی بڑھی کہ ہم گھر کے اندر اجنبی بن گئے۔ حتیٰ کہ زمین دار ہوتے ہوئے، کم از کم وقتی طور پر، ہمارا یہ حال ہوا جیسے کہ ہم بے زمین ہوں۔ جیسے کہ گھر کی چیزوں میں ہمارا کوئی حصہ ہی نہ ہو۔ ہم لو گ اپنے ماحول میں بے سروسامان بھی ہو گئے اور اسی کے ساتھ حقیر بھی۔ ہمارا آبائی مکان بہت بڑا تھا۔ مگر والد کے انتقال کے بعد ہم نے اپنے آپ کو ایک ایسے گھر میں پایا جو گھوڑے کے اصطبل کے لیے بنایا گیا تھا اور اب کھنڈر ہو جانے کی وجہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page