تجربہ کی زبان میں
Urdu book, p. 258
By Maulana Wahiduddin Khan
سے اصطبل کے طور پر استعمال نہیں ہورہا تھا۔ مزید یہ کہ گھر میں نہ کھانے کے لیے سامان تھا اور نہ ضروری چیزوں کی خریداری کے لیے پیسہ۔ اس حالت میں لوگ والدہ کو طرح طرح کے مشورے دینے لگے۔ کسی نے کہا کہ آپ دوسرا نکاح کر لیں۔ کسی نے کہا کہ میکے چلی جائیں۔ کسی نے کہا کہ مقدمہ کے ذریعہ اپنی جائیداد حاصل کریں۔ مگر والدہ نے اس قسم کے تمام مشوروں کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ایک بہادر اسلامی خاتون کی طرح انھوں نے حالات سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ میں ان کا سارا انحصار صرف دو چیزوں پر تھا— اللہ سے دعا اور اپنے دست و بازو کی محنت۔ والدہ کے میکے میں بہت بڑی زمین داری تھی۔ مزید یہ کہ ہمارے نانا مرحوم نے اپنی موت سے پہلے تقریباً 20 ایکڑ زمین والدہ کے نام لکھ دی تھی۔ مگر والدہ نے اس معاملہ میں مکمل استغناء کا ثبوت دیا۔ انھوں نے اپنے میکہ سے نہ کبھی زمین کا مطالبہ کیا اور نہ اپنی حالت بیان کر کے ان سے مدد کی درخواست کی۔ وہ توکل علی اللہ کا زندہ نمونہ بن گئیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ صبح اندھیرے بستر سے اٹھ جاتیں اور فجر کی نماز پڑھ کر سارے دن مسلسل کام کرتی رہتیں۔ رات کو دیر سے عشاء کی نماز پڑھ کر سوتیں۔ وہ کیا کام تھا جس میں وہ اپنے گھر کے اندر سارے دن مصروف رہتی تھیں۔ انھوں نے یہ کیا کہ گھر کے اندر مرغیاں پال لیں۔ اسی کے ساتھ ان کے یہاں بہت سی بکریاں پلی ہوئی تھیں۔ یہ ان کا مستقل کاروبار تھا۔ والدہ کے اسی ذوق کی وجہ سے مجھے پیغمبروں کی اس سنت پر عمل کرنے کا موقع ملا کہ میں نے اپنے بچپن میں بکریاں چرائیں۔ اپنے سب بھائیوں میں صرف مجھ کو یہ سعادت حاصل ہوئی۔ اسی کے ساتھ والدہ نے سلائی کا کام بھی شروع کر دیا۔ اس زمانہ میں سلائی کی مشین عام نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ گاؤں کے لوگوں کے کپڑے وہ ہاتھ سے سیتی تھیں۔ اس سلائی کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader