تجربہ کی زبان میں
Urdu book, p. 259
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی اجرت مقرر نہ تھی۔ وہ رضا کارانہ طور پر لوگوں کے کپڑے سیتی تھیں اور لوگ بھی رضا کارانہ طور پر غلہ وغیرہ ہمارے یہاں پہنچا دیا کرتے تھے۔ بعد کو والدہ نے بھینس بھی پال لی۔ اسی کے ساتھ وسیع کھلے ہوئے صحن میں وہ مختلف قسم کی سبزیاں اور پیتے وغیرہ بو دیتی تھیں جس سے کافی فصل نکلتی تھی۔ والدہ مرحومہ کی اس زندگی سے متاثر ہو کر ایک بار یہ شعر میری زبان پر آ گیا تھا: مرغی بکری سبزی پھل ہے مومن کی معاش کا حل اس زمانہ میں ایک عورت نے والدہ کی حالت کو دیکھ کر کہا تھا آپ کو بلی کے بچوں کی رکھوالی ملی ہے۔ یہ تبصرہ لفظ بلفظ درست تھا۔ ہم لوگ اس زمانہ میں واقعۂ بلی کے بچوں کی مانند تھے۔ والدہ نے اگر غیر معمولی قربانی کے ذریعہ ہماری پرورش نہ کی ہوتی تو شاید ہم لوگوں کا وہی انجام ہوتا جو بلی کے چھوٹے بچوں کا اس وقت ہوتا ہے۔ جب کہ وہ اپنی ماں کی سر پرستی سے محروم ہو گئے ہوں۔ ہم لوگوں کی پرورش اور دیکھ بھال کے سلسلہ میں والدہ نے برسہا برس تک جو کچھ کیا اور جو کچھ میری آنکھوں نے دیکھا، ان کو یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ وہ خود ایک مستقل کتاب ہے۔ اس وقت ہماری جو معاشی حالت تھی، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک بار مجھے غلیل بنانے کا شوق ہوا۔ غلیل کا ہر اس وقت ایک پیسہ میں ملتا تھا۔ مگر ہمارے گھر میں ایک پیسہ موجود نہ تھا جس کے ذریعہ میں ربڑ خرید سکوں۔ ایک صاحب کے علم میں یہ بات آئی تو انھوں نے مجھے ایک پیسہ دیا اور میں نے دکان جا کر غلیل کار بر خرید ا۔ یہ میرا حال اس وقت تھا جب کہ میں علاقہ کے سب سے بڑے زمیندار خاندان کا ایک فرد تھا۔ والد مرحوم کے انتقال کے بعد ہم معاشی اعتبار سے صفر کے درجہ میں پہنچا دیے گئے تھے۔ ایسی حالت میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ والدہ کو کیا کچھ مشقت اٹھانی پڑی ہوگی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader