خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
تجرد کا معاملہ اسلام سے پہلے تقریباً تمام مذاہب میں تجرد کو پارسائی کا اعلیٰ معیار سمجھا جاتا تھا۔ اس کی وجہ بھی وہی تھی جس کا اوپر ذکر ہوا۔ عورتوں کو حقیر اور گناہ کا سرچشمہ سمجھنے کی وجہ سے یہ ہوا کہ عورتوں کو اپنی زندگی میں شامل کرنے والا شخص لوگوں کی نظر میں کم تر ہو گیا۔ اس کے برعکس، وہ شخص لوگوں کی نظر میں مقدس بن جاتا تھا جو تجرد کی زندگی اختیار کیے ہوئے ہو۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں: “Celibacy has existed in some form or another through-out man's religious history and has appeared in virtually all the major religious traditions of the world” (Encyclopedia Britannica, 3/1040) تجرد کسی ایک یا دوسری شکل میں انسان کی پوری مذہبی تاریخ میں موجود رہا ہے۔ عملی طور پر وہ دنیا کے تمام بڑے مذہبوں میں پایا جاتا رہا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ تجرد (Celibacy) میں تفصیل سے دکھایا گیا ہے کہ کس طرح تمام مذاہب اس سے متاثر رہے ہیں۔ تجرد کا خاص مقصد یہ ہے کہ مذہبی شخصیتوں میں تقدس کی شان پیدا کی جائے۔ مذہبی شخصیت کو روحانی طور پر خود کفیل ہونا چاہیے، جب کہ عورت کے ساتھ تعلق بتاتا ہے کہ اپنی تکمیل کے لیے وہ اپنے سے باہر بھی کسی چیز کا محتاج ہے۔ ابتدائی مذاہب کے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے یہاں بھی مذہبی شخصیتوں کے لیے عورت کے ساتھ ازدواجی تعلق ممنوع تھا۔ کیوں کہ اس کے بغیر اس کا روحانی تزکیہ نہیں ہو سکتا تھا۔ بعد کو جو مذہبی لٹریچر تیار ہوا اس میں زور و شور کے ساتھ دکھایا گیا کہ تجرد کی زندگی اختیار کرنے سے آدمی کی اخلاقی اور روحانی ترقی ہوتی ہے۔ اس لیے جو لوگ اخلاقی اور روحانی ارتقار چاہتے ہیں وہ نکاح نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader