Urdu book · خاتونِ اسلام

تجربہ کی زبان میں

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے عورت ہوتے ہوئے مرد والا کام کیا۔ گھر میں رہ کر باہر کی دنیا پر اثرانداز ہوئیں۔ حالات نے انھیں اپنا معمول بنانے کا فیصلہ کر رکھا تھا، مگر انھوں نے خود حالات کو اپنا معمول بنالیا۔ انھوں نے اسلام کے حدود میں رہ کر وہ سب کچھ کیا جس کو کرنے کے لیے غیر ضروری طور پر خواتین کو اسلام کی حدود سے باہر نکالنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ والدہ نے جو کچھ کیا وہ اسلامی جذبہ کے تحت کیا۔ وہ ہمیشہ انسانوں کے بجائے خدا کی طرف دیکھتی تھیں، اور دنیا کے اعتبار سے سوچنے کے بجائے آخرت کے اعتبار سے سوچتی تھیں۔ تاہم انھوں نے جو کچھ کیا وہ سادہ طور پر محض روایتی دینی ذہن کے تحت تھا۔ وہ کوئی صاحب علم خاتون نہ تھیں کہ اپنے عمل کے فلسفیانہ پہلوؤں پر غور کر سکیں ۔ مگر آج جب میں اپنی ساٹھ برس کی عمر کو پہنچ کر سوچتا ہوں تو مجھے ان کا عمل انتہائی عظیم نظر آتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے مقابلے میں مجھے یہ بات بالکل ہیچ معلوم ہوتی ہے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے اور پھر کسی دفتر کی شاندار کرسی پر بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔ والدہ نے اپنی مذکورہ قربانی سے نہ صرف بچپن میں ہماری پرورش کی بلکہ ان کے اسلامی مزاج نے انھیں اس قابل بنایا کہ وہ ہمیں اس سے بھی زیادہ بڑا عطیہ دے سکیں ۔ یعنی خدا کی دنیا میں کامیابی اور ترقی کا راز ۔ وہ راز تھا مثبت طرز فکر اور حقیقت پسندی کا مزاج جو ہم تینوں بھائیوں کو مشترک طور پر ملا۔ ہمیں یہ عطیہ دینے والی تنہا ہماری والدہ تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ والد کے انتقال کے بعد ہمارے رشتے کے ایک ماموں (شیخ عبد الغفور) برابر ہمارے یہاں آنے لگے۔ وہ زبردست مقدمہ باز آدمی تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ والدہ اپنے میکہ کی بیس ایکڑ زمین کے لیے عدالت میں مقدمہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ صرف دعوے کے کاغذ پر دستخط کر دیجیے، باقی سب کام میں خود کروں گا اور یہ ساری زمین آپ کو مل جائے گی ۔ غالباً وہ برسوں تک ہمارے یہاں آتے رہے۔ مگر والدہ کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page