تجربہ کی زبان میں
Urdu book, p. 261
By Maulana Wahiduddin Khan
قیمت پر مقدمہ کرنے کے لیے راضی نہیں ہوئیں۔ دوسری طرف ہم لوگوں کی اپنی آبائی جائیداد کا معاملہ تھا جس سے محرومی ہر آن زندہ اشتعال بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہوئی تھی اور یہ دعوت دیتی تھی کہ اپنا حق وصول کرنے کے لیے لڑو۔ بعد کو بعض لوگوں کے کہنے سے ہمیں کچھ زمینیں دی گئیں مگر وہ عملاً نہ دینے کے برابر تھا۔ کیوں کہ جتنی بے کار اور بنجر زمینیں تھیں وہ چھانٹ کر ہمارے حوالے کر دی گئیں۔ یہ صورت حال فریق ثانی کے خلاف لامناہی لڑائی چھیڑنے کے لیے بالکل کافی تھی۔ مگر والدہ نے یہاں بھی صبر کے سوا کسی اور چیز کے لیے کبھی نہیں سوچا۔ وہ اکثر ہم لوگوں کو صبر کی تلقین کرتے اور اس سلسلہ میں ایک دیہاتی شاعر کا یہ شعر ہمیں سناتیں: صبر بدلے میں دائم بہشت پائم اس وقت ہمارے جو خاندانی حالات تھے وہ مکمل طور پر ہم کو منفی سوچ کی طرف لے جانے والے تھے۔ یہی وہ حالات ہیں جن میں کسی خاندان کے افراد مقدمہ بازیوں میں اُلجھتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان کبھی نہ ختم ہونے والے لڑائی جھگڑے برپا ہوتے ہیں۔ قیمتی زندگیاں ہلاک ہوتی ہیں۔ لوگ مستقل طور پر تخریبی کارروائیوں کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ والدہ اگر اس وقت رد عمل کا طریقہ اختیار کرتیں تو ان کے بچوں کا جو حال ہوتا وہ یہ کہ وہ منفی ماحول میں پلتے۔ ان کے اندر تخریبی احساسات جنم لیتے۔ ہم میں سے ہر ایک ضد اور انتقام کی نفسیات کا کارخانہ بن کر رہ جاتا۔ مگر والدہ مرحومہ کے یک طرفہ صبر نے ہماری زندگیوں کا رخ بدل دیا۔ والدہ کے زیر سایہ ہم سب بھائیوں کے اندر یہ سوچ ابھرنے لگی کہ ہمیں دوسروں سے نہیں لڑنا ہے۔ ہمیں خود اپنی محنت کے بل پر اپنے آپ کو اوپر اٹھانا ہے۔ جو کچھ ہم سے چھینا گیا تھا اس سے ہماری نظریں ہٹ گئیں۔ ہماری ساری توجہ اس چیز پر لگ گئی جو چھینے کے بعد بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader