Urdu book · خاتونِ اسلام

تجربہ کی زبان میں

Urdu book, p. 262

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمارے پاس ابھی تک باقی تھا، یعنی خدا کا دیا ہوا انسانی وجود۔ آج تو میں اس حقیقت کو شعوری طور پر جان رہا ہوں۔ مگر اُس وقت یہ مزاج غیر شعوری طور پر صرف والدہ کی تربیت کے نتیجے میں ہمارے اندر پیدا ہوا تھا۔ چنانچہ ہم تینوں بھائیوں کا معاملہ یہ ہوا کہ ہم لوگ مقام نزاع سے ہٹ گئے۔ ہم میں سے ہر ایک نے کسی نہ کسی غیر نزاعی مقام پر اپنے لیے عمل کا میدان تلاش کر لیا۔ ہم تینوں بھائیوں کی راہ اگرچہ الگ الگ بنی۔ مگر ذہن سب کا ایک تھا۔ یعنی اندرونی بے انصافیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے باہر کی وسیع دنیا میں اپنے لیے راہ عمل تلاش کرنا۔ انسان سے نہ پا کر خدا سے پانے کا طلب گار بننا۔ ہمارے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں صاحب اپنی زندگی کے اگلے مرحلہ میں تجارت کے راستہ پر لگ گئے۔ 1944 میں وہ ’’ہجرت‘‘ کر کے شہر اعظم گڑھ گئے۔ وہاں انھوں نے تقریباً بلا سرمایا ایک تجارتی کام کا آغاز کیا۔ وہ برابر شدید جدوجہد کرتے رہے۔ 40 برس بعد اب الٰہ آباد میں ان کا لائٹ اینڈ کمپنی لمیٹڈ کے نام سے بجلی کا سامان بنانے کا کارخانہ ہے اور وہ اس کے چیئرمین ہیں۔ والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کے سب سے زیادہ حقیر فرد شمار کیے جاتے تھے، آج وہ وسیع خاندان کے سب سے زیادہ معزز فرد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے آبائی جائیداد کی نئی تقسیم کرا کر اپنا پورا حق دوبارہ لے لیا جو اس سے پہلے انھیں نہیں دیا گیا تھا۔ میرے چھوٹے بھائی عبدالمحیط خاں سائنس اور انجینئرنگ کی تعلیم کی طرف گئے۔ لمبی جدوجہد کے بعد انھوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی سے امتیاز کے ساتھ انجینئرنگ کی ڈگری لی اور اب وہ حکومت یوپی کے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے محکمہ میں ڈپٹی ڈائرکٹر ہیں۔ اپنے انتھک عمل، اپنے بے داغ کردار اور اپنی با اصول زندگی کے نتیجہ میں وہ پورے محکمہ میں ایک ممتاز شخصیت کے مالک بن گئے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page