Urdu book · خاتونِ اسلام

تجربہ کی زبان میں

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

راقم الحروف کی توجہ دینی تعلیم کی طرف ہوئی۔ اولاً میں نے عربی درس گاہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد میں نے زبردست کوشش سے انگریزی زبان وعلوم کو پڑھا۔ اب اللہ کی توفیق سے میں جو کام کر رہا ہوں اس سے ان سطور کے قارئین بخوبی واقف ہیں۔ 1976 میں ماہنامہ الرسالہ کے اجراء کے بعد سے جو کام میں کر رہا ہوں، اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دے رہا ہوں کہ وہ منفی سوچ سے اوپر اٹھیں اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیار کریں۔ الرسالہ کی یہ تحریک اب خدا کے فضل سے مسلم دنیا کی ایک طاقتور تحریک بن چکی ہے۔ مجھ کو اکثر اہل علم کی طرف سے زبانی یا تحریری طور پر ایسے تبصرے ملتے رہتے ہیں جن میں اس بات کا اعتراف ہوتا ہے کہ دور جدید میں الرسالہ کی تحریک پہلی اسلامی تحریک ہے جس نے مسلمانوں کو منفی کارروائیوں سے ہٹا کر مثبت تعمیر کی راہ پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ایسے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اگر یہ واقعہ ہے تو اس کا کریڈٹ سب سے زیادہ اس مسلم خاتون کو جاتا ہے جس کا نام زیب النساء تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس عالم مادی میں اگر کوئی ہے جس کو الرسالہ کی تعمیری تحریک کا ابتدائی بانی کہا جاسکے تو وہ یقیناً میری والدہ زیب النساء ہیں، وہ زیب النساء جو نام نہاد آزادی نسواں کی تحریک سے نہ صرف بہت دور تھیں بلکہ وہ اس کا نام بھی نہیں جانتی تھیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ والدہ محترمہ کے لیے وہ ایک غیر شعوری معاملہ تھا، اور میری ذات میں اللہ تعالیٰ نے اس کو شعوری دریافت تک پہنچایا ہے۔ میں اپنے قریبی رشتہ داروں میں ایک سے زیادہ ایسے افراد کو جانتا ہوں جو کم عمری میں ماں کی سرپرستی سے محروم ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری زندگی بربادی کا نشان بن کر رہ گئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں کے روپ میں عورت کا رول انسانی زندگی میں بہت زیادہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page