خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
احساس اور دوسرے تمدنی مصالح کا تقاضا ہے کہ مرد اور عورت آزادانہ طور پر جنسی تعلق قائم نہ کریں ۔ بلکہ اخلاقی پابندیوں کے دائرے میں رہ کر اپنے جنسی تقاضے پورے کریں ۔ اسی مصلحت کی بنا پر شریعت میں نکاح کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ کچھ متعین رشتوں کو حرام قرار دیتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ مرد اور عورت آپس میں نکاح کا رشتہ قائم کر کے خاندانی زندگی گزاریں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ (4:24) ۔ اور ان (حرام عورتوں) کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال ہیں ، بشرطیکہ تم اپنے مال کے ذریعہ سے ان کے طالب بنو۔ ان کو قید نکاح میں لے کر، نہ کہ بدکاری کے طور پر۔ عورت اور مرد کے درمیان فطری طور پر صنفی کشش پائی جاتی ہے۔ اسی صنفی کشش کی اخلاقی تنظیم کا دوسرا نام نکاح ہے ۔ انسانی نفسیات، حیاتیاتی حقائق اور تمدنی مصالح سب کا مشترک تقاضا ہے کہ عورت اور مرد کا صنفی تعلق منظم انداز میں ہو، اور اس تنظیم کے لیے نکاح سے بہتر کوئی صورت نہیں ہوسکتی ۔ نکاح کا طریقہ انسانی طریقہ ہے اور نکاح کے بغیر جنسی تعلق کرنا غیر انسانی طریقہ۔ شریک حیات مرد اور عورت (یا میاں اور بیوی) کے حقوق و فرائض جس بنیادی اصول کے تحت متعین ہوتے ہیں وہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے شریک حیات ہیں ۔ یہ بنیادی اصول قرآن کی اس آیت سے نکلتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عورت اور مرد آپس میں ایک دوسرے کا جزء ہیں: بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ (3:195) ۔ عورت اور مرد کی یہ باہمی حیثیت کہ وہ ایک دوسرے کی زندگی کا حصہ یا ایک دوسرے کے رفیق حیات ہیں، یہی وہ بنیادی اصول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader