خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے جس سے یہ متعین ہوتا ہے کہ ایک کے اوپر دوسرے کا حق کیا ہے، اور ایک کو دوسرے کے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں کیا کرنا چاہیے۔ اس اعتبار سے جدید تہذیب اور اسلامی شریعت کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ جدید تہذیب عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا ہمسر قرار دیتی ہے ۔ اور اسلامی شریعت کے نزدیک عورت اور مرد ایک دوسرے کے شریک حیات ہیں۔ اسی فرق میں دونوں کے معاشرتی نظام کے فرق کو دیکھا جا سکتا ہے۔ دین فطرت اسلام فطرت کا دین ہے۔ اسلام کی تعلیمات فطرت کے سادہ اصولوں پر مبنی ہیں ۔ عورت اور مرد کے باہمی تعلق کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اس معاملہ میں اسلام نے چند سادہ اصول مقرر کر دیے ہیں ۔ یہ سادہ اصول ہر ایک کے لیے قابل عمل ہیں۔ اگر ان کو سنجیدگی کے ساتھ اختیار کر لیا جائے تو ہر خاندان سکون اور عافیت کا گہوارہ بن جائے گا۔ عورت اور مرد کے تعلق کے بارے میں فقہاء اسلام نے بہت سی تفصیلات وضع کی ہیں۔ مگر یہاں ہم کو ان فقہی تفصیلات سے کوئی بحث نہیں ہے۔ ہم صرف وہ بنیادی اصول بیان کریں گے جو قرآن وحدیث میں مقرر کیے گئے ہیں ۔ اور جو دراصل اسلامی طرز معاشرت کی اساس ہیں ۔ اس معاملہ کی فقہی اور جزئی تفصیلات پر ہر زبان میں کتابیں موجود ہیں۔ دلچسپی رکھنے والے لوگ انھیں ان کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ عورت کے مقابلہ میں مرد کی حیثیت عورت اور مرد جب باہم ازدواجی زندگی میں منسلک ہوتے ہیں تو اس کے بعد لازمی طور پر ایک اجتماعی ادارہ وجود میں آتا ہے جس کا نام خاندان ہے ۔ ہر اجتماعی ادارے کی طرح اس اجتماعی ادارے کی بھی ایک ضرورت ہوتی ہے اور وہ یہ کہ اس ادارے کا ناظم اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader