خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
کریں اور اگر ان کا نکاح ہو چکا ہے تو بیوی سے جنسی تعلق مطلق طور پر چھوڑ دیں۔ جنسی عمل کو مذہب کا سب سے بڑا دشمن سمجھا گیا۔ عورتوں کے لیے بھی سب سے اونچا روحانی تصور یہ تھا کہ وہ ساری عمر کنواری رہیں اور اسی حال میں مر جائیں۔ قدیم رومی مذہب میں فلسفیوں اور مذہبی لوگوں کے بارے میں اعلیٰ تصور یہ تھا کہ وہ ہمیشہ مجرد زندگی گزارتے ہیں۔ ایسا ہی شخص آئیڈیل روحانی معلم بن سکتا ہے۔ جین مذہب کے مطابق عورت کو دیکھنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔ یہی حال بدھزم اور دوسرے تمام مذاہب کا ہے۔ (ملاحظہ ہو، انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا، 1984، جلد 16، صفحہ 599) تاریخ کی معلوم شخصیتوں میں پیغمبر اسلام پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے اپنے قول و عمل سے ان باتوں کی تردید کی۔ آپ نے بتایا کہ تقدس کی علامت تجرد نہیں، تقدس یہ ہے کہ آدمی بیوی بچوں کے درمیان ہوا اور پھر بھی وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد پر قائم رہے۔ عورت زندگی کی بھلائی ہے، نہ کہ زندگی کی برائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف خود نکاح کیا بلکہ اپنے ساتیوں کو بار بار ترغیب دی کہ تم بھی نکاح کرو۔ حتیٰ کہ ماضی کے تقدس کو توڑنے کے لیے آپ نے یہاں تک فرمایا کہ عورت کو میرے لیے محبوب بنایا گیا ہے: حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاءِ (سنن النسائی، حدیث نمبر 3940)۔ قدیم زمانے میں عورت سے تعلق کسی مذہبی شخصیت کے لیے اتنی معیوب چیز سمجھی جاتی تھی کہ آپ اگر اس باب میں اتنا زیادہ زور نہ دیتے تو لوگ بدستور سابقہ رواج پر قائم رہتے۔ موجودہ زمانے کی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ تجرد کا نظریہ سراسر غیر فطری اور غیر واقعی نظریہ تھا۔ اس کے مقابلے میں اسلام کا تصور عین فطری اور عین مطابق حقیقت ہے۔ آج یہ ثابت ہو گیا ہے کہ انسان کے اندر جنسی اعضاء صرف جنسی عمل میں مددگار نہیں ہیں۔ بلکہ ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader