Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 270

By Maulana Wahiduddin Khan

نگراں کون ہو ۔ اسلام نے خاندانی ادارہ کے انتظام اور نگرانی کے لیے مرد کا انتخاب کیا ہے: الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (4:34) یعنی، مرد، عورتوں کے اوپر قوام ہیں۔ مرد کو قوام بنانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد عورت سے افضل ہے۔ یہ تقرر انتظامی بنیاد پر ہے، نہ کہ افضلیت کی بنیاد پر۔ جمہوری نظام میں ہر آدمی کے لیے یکساں درجہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود جب حکومت قائم کی جاتی ہے تو ایک شخص کو حاکم (بالفاظ دیگر قوام) مقرر کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ یہ حاکم دوسرے شہریوں کے مقابلہ میں افضل یا برتر ہے۔ جمہوری نظام میں صدر یا وزیراعظم کا ووٹ بھی ایک ہوتا ہے جس طرح عام افراد قوم کا صرف ایک ووٹ ہوتا ہے، اس کے باوجود انتظامی مصلحت کے تحت ایک شخص کو دوسروں کے اوپر حاکمانہ اختیار تفویض کیا جاتا ہے۔ انتظامی تقسیم کے علاوہ درجہ کے اعتبار سے عورت اور مرد دونوں بالکل یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک عورت اگر ایک مرد کو قتل کرے تو جرم ثابت ہونے کے بعد عورت سے قصاص لیا جائے گا۔ اسی طرح ایک مرد اگر ایک عورت کو قتل کردے تو جرم ثابت ہونے کے بعد مرد سے اس کا قصاص لیا جائے گا، جیسا کہ حدیث میں ارشاد ہوا ہے: أَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ (بے شک عورت کے بدلے مرد کو قتل کیا جائے گا) سنن الدارمی، حدیث نمبر 2399۔ شریعت کی نظر میں عورت اور مرد کے درمیان کوئی قانونی تفریق نہیں۔ جو قانون مرد کے لیے ہے وہی قانون عورت کے لیے بھی ہے۔ جو چیز ایک کے لیے ہے وہی دوسرے کے لیے ہے، جو چیز ایک کے لیے نہیں وہ دوسرے کے لیے بھی نہیں۔ مہر نکاح کے بعد سب سے پہلی ذمہ داری جو مرد کے اوپر اپنی بیوی کے سلسلہ میں عاید

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page