Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتی ہے وہ یہ کہ وہ مقررہ مہر اسے ادا کرے : وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً (4:4) ۔ یعنی ، اور عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔ یہ مہر عورت کے اوپر حقوق زوجیت حاصل کرنے کا معاوضہ نہیں ہے۔ حقوق زوجیت کا معاملہ اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ مہر کی مروجَہ رقم اس کا معاوضہ بن سکے۔ مہر کی یہ رقم دراصل ایک علامتی رقم ہے۔ وہ ہونے والی بیوی کے لیے اس ذمہ داری کو قبول کرنے کی ایک مادی علامت ہے جو مرد کو زندگی کے آخری لمحہ تک ادا کرنا ہے۔ یہ ذمہ داری کیا ہے۔ یہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ تاحیات عورت کا نگراں اور کفیل رہے گا۔ خاندانی تنظیم میں شریعت نے اصلاً عورت کے ذمہ یہ کام کیا ہے کہ وہ گھر کو سنبھالے۔ وہ اگلی نسل کی پرورش اور تربیت کرے۔ یہ کام ایک غیر نفع آور کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عورت کی کفالت کو مرد کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ اگر عورت کے اوپر بیک وقت دونوں ذمہ داری ڈال دی جائے۔ وہ گھر کے نظام کو بھی سنبھالے اور اسی کے ساتھ وہ اپنی معاش بھی پیدا کرے۔ تو وہ دونوں میں سے کسی کام کو بھی ٹھیک طور پر انجام نہ دے سکے گی۔ اس لیے اس کی معاشی کفالت کو مرد کے ذمہ رکھا گیا ہے تا کہ گھر کے نظام کے اعلیٰ بندوبست کی ضمانت ہو سکے۔ ازدواجی تعلق کے آغاز میں مہر کی صورت میں ایک رقم دے کر مرد علامتی طور پر یہ عہد کرتا ہے۔ نفقہ مہر کے ذریعہ مرد جو علامتی عہد کرتا ہے ، اسی کی متعین مالیاتی صورت کو نفقہ کہا جاتا ہے۔ ہر عہدہ اپنے ساتھ ذمہ داری لاتا ہے۔ مرد کا قوام ہونا ایک عہدہ ہے اور اس عہدہ کی ذمہ داری کا نام نفقہ ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنَفَقُوا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page